working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

مفتی سرفراز نعیمی کی شہادت

تنظیم المدارس اہلسنت کے ناظم اعلیٰ ، تحفظ ناموس رسالت محاذ کے صدر جامعہ نعیمیہ کے منتظم اعلیٰ اور معروف عالم دین مفتی سرفراز نعیمی بھی خود کش حملے کا نشانہ بن گئے۔ یقینا ان کی شہادت ''موت العالِم موت العالَم'' کے مترادف ہے۔ اپنے صاحب فکر باپ مفتی محمد حسین نعیمی کی طرح، مفتی سرفراز نعیمی نے بھی علمی،فکری، درویشی اور تنظیمی حوالے سے ایک بھرپور زندگی گذاری اور آخر کار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ مفتی سرفراز نعیمی پاکستان میں خود کش حملوں کے شدید مخالف تھے غالب خیال ہے کہ ان کے قتل کے پیچھے وہی قوتیں کارفرما ہیں جو خود کش حملوں کو اپنی حکمت عملی کا جزو لاینفک سمجھتی ہیں۔ اس لیے ان کے قتل کی ایف آئی آر میں بیت اللہ محسود کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ مولانا حسن جان کو بھی شہید کر دیا گیا تھا۔ مولانا حسن جان بھی خود کش حملوں کی مخالفت کرتے تھے۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ خود کش حملہ آوروں کا ہدف صرف سیکورٹی ادارے نہیں بلکہ ہر وہ شخص بھی ہے جو کہ فکری سطح پر انہیں چیلنج کرتا ہے۔ قاری زین الدین محسود کا قتل قبائلی تنازعوں کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طالبان گروپ عدم برداشت کی انتہائی سطح کو پہنچ گئے ہیں۔ روایتی دشمنی کے ساتھ جیسے ہی قاری زین الدین محسود نے بیت اللہ محسود کے خلاف انٹرویو دیا اس کے چار دن بعد ہی اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ سارے واقعات جہاں پر بیت اللہ محسود نیٹ ورک کے انتہائی مؤثر ہونے پر دلالت کرتے ہیں وہاں پر ''ٹارگٹ کلنگ'' کے اُس دور کی عکاسی بھی کرتے ہیں جب 80 اور 90 کی دہائیوں میں فرقہ واریت عروج پر تھی اور متحارب گروہ ایک دوسرے کا جواب دنوں اور گھنٹوں میں دینے کی اہلیت رکھتے تھے۔ بیت اللہ محسود نیٹ ورک کی اسی اہلیت کے پیش نظر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح اور سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی کھلے عام بیت اللہ محسود کا نام لینے سے ہچکچاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سوات اور وزیرستان سے متعلق جس پالیسی پر اندرون خانہ سب جماعتیں اتفاق کا مظاہرہ کرتی ہیں مگر باہر آکر وہ یکسر ایک مختلف رائے کا اظہار کرتی ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کمزور اور سہمے ہوئے مؤقف کے ساتھ نہیں جیتی جاسکتی بلکہ مفتی سرفراز نعیمی اور مولانا حسن جان کی طرح دو ٹوک مؤقف اپنانا ہوگا ۔ افسوس کہ ابھی تک ہماری سیاسی جماعتیں اور اکابرین اسی بات میں الجھے ہوئے ہیں کہ کیا یہ ہماری جنگ ہے؟ اور بعض کا خیال ہے کہ اس جنگ کا مرکزی نکتہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی ہے اور اگر امریکہ آج خطے سے فوجی انخلاء کا اعلان کر دے تو یہ جنگ ختم ہوجائے گی۔ شاید ایسا نہ ہو ، بلکہ ایسا سمجھنے والے کیا اس بات سے انکاری ہو سکتے ہیں کہ امریکی افواج کے علاوہ بھی ہمارے خطے کے ممالک کے باہمی تنازعات شدید نوعیت کے نہیں۔انہی تنازعات کی شدت ہم ماضی میں دہلی ، کابل اور تہران کی حکومت کے ساتھ دیکھتے آئے ہیں اور موجودہ تنازعہ کی حقیقی جڑں بھی اسی ماضی کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، لیکن آج ہمارے پاس ماضی کی طرح کے آپشنز موجود نہیں۔ اس لیے ہمیں از سر نو اپنے سٹرٹیجک مفادات کی تشکیل اور نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

یہ راستہ بڑا کٹھن ہے کیونکہ یہ موٹروے کا سفر نہیں کہ منزل بدلی تو کسی انٹر چینج سے یو ٹرن لے لیا جائے ، قوموں کی زندگی میں سب سے مشکل مرحلہ وہی ہوتا ہے ۔ جہاں انہیں یو ٹرن لینا پڑے۔ کل ہم پر دہشت گردی کا لیبل لگتا تھا اور آج ہم دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ یہ اعصاب شکن مرحلے ہیں مگر ہمیں ثابت قدمی دکھانی ہے۔ اگر ملک اور آنے والی نسلوں کو بچانا ہے تو پھر اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی نکتہ مفتی سرفراز نعیمی نے پالیا تھا اس لیے وہ اور ان جیسے دوسرے جو اسی راہ حق کے شہید ہیں انہیں ''شہید پاکستان'' کا لقب دیا جانا چاہیے۔
(مدیر)