working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

ہماری سلامتی: چند سوالات
ڈاکٹر طارق رحمن
 
ہمیں آج اپنی سلامتی سے متعلق بعض ایسے سوالات کا سامنا ہے جن کا جواب بھی ہمیں کو فراہم کرنا ہے۔ دیکھا جائے تو آج ریاست اپنے اداروں اور عوام سمیت مختلف محاذوں پر اپنی بقا کی جنگ لڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اس میں سرِفہرست بلوچستان میں قوم پرستوں کی جانب سے احتجاجی تحریک اور فاٹا اور دیگر شمالی سرحدی علاقوں میں متشدّدانہ کارروائیاں ہیں اور اس ساری صورتِ حال کے پیچھے ماضی میں کی گئی ہماری بعض ایسی غلطیاں ہیں جن کا خمیازہ ہمیں آج تک بھگتنا پڑرہا ہے۔ ایسی صورت حال میں ہمیں کیا اقدامات کرنا چاہئیں، ان کی جانب طارق رحمٰن ہماری رہنمائی کررہے ہیں۔ (مدیر)
اس وقت جبکہ ہم اپنے ہی ملک میں حالت جنگ میں ہیں، ہمیں اپنی سلامتی سے متعلق بعض سوالوں کا جواب درکار ہے۔

س: پاکستان کے عدم تحفظ کی نوعیت کیا ہے؟
ہمیں دو فوری خطرات کا سامنا ہے، پہلا بلوچستان کی شورش اور دوسرا فاٹا کی۔ پہلے کی وجہ بلوچوں کی 61 سالہ محرومیاں ہیں۔ بلوچ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا استحصال کیا گیا اور ان کے ساتھ ایک نوآبادی کی طرح سلوک روا رکھا گیا۔ وہ پہلے بھی کئی بار مرکز سے متصادم ہو چکے ہیں۔ جبکہ پشتون علاقوں میں مزاحمت ہماری اپنی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو تک نے افغانوں کو اپنی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے تربیت دی، تاکہ افغانستان کو پاکستان کے پشتو بولنے والے علاقوں پر اپنا دعویٰ ترک کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ بعد ازاں ضیاء الحق نے سوویت یونین کے خلاف پراکسی جنگ (Proxywar) میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ ہم نے پہلے مال دار عرب تنہا پسندوں کا خیر مقدم کیا اور پھر چیچنوں اور ازبکوں کا جو امریکی سرمائے اور ہماری تربیت کے ساتھ روس سے لڑے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے ان میں سے کچھ کو پنجاب کے جنگجوئوں کے ساتھ کشمیر میں بھارت سے لڑنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں بھارت اور ہماری جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
مغربی محاذ پر ہم نے ا سلامی انتہا پسندوں کی اس لیے حمایت کی، تاکہ افغانستان میں ہماری دوست حکومت قائم ہو جو بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں ہماری مدد گار ہو۔ تزویراتی گہرائی (Strategic depth) حاصل کرنے کی ہماری یہ پالیسی بھی نقصان دہ ثابت ہوئی۔ غیرجانبدار اور پر امن پالیسی نہ اپنا کر ہم نے خود جنگ کے عفریت کو اپنی سرزمین پردعوت دی۔

س: کیا فاٹا میں جاری شورش پاکستان کی اپنی جنگ ہے؟
فاٹا میں دو قسم کی لڑائی جاری ہے۔ پہلی جنگ افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کو شکست دینے کے لیے ہو رہی ہے، جبکہ دوسری پاکستان کے علاقوں پر قبضہ کر کے یہاں شریعت کے نام پر حکومت کرنے کے لیے ہے۔ پہلی جنگ ہماری نہیں، لیکن دوسری یقینا ہماری اپنی ہے۔ کیونکہ ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ قانون کی حدود میں رہتے ہوئے آزادی سے زندگی گزار سکیں۔ طالبان نے کئی علاقوں میں اپنی رِٹ قائم کی، جہاں انہوں نے لوگوں کے سرقلم کیے، سکول تباہ کیے اور خواتین کو کوڑے مارے۔ ان لوگوں کے ساتھ لڑنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور تصادم کا یہ حصہ ہماری جنگ ہے۔

س: کیا بیرونی طاقتیں ہمیں عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے ہمارے شہروں میں تشدد پھیلا رہی ہیں؟
یہ سمجھنا کہ امریکہ ہمارے جوہری ہتھیاروں کے پیچھے ہے یا کوئی ایجنسی مثلاً ''بلیک واٹر'' تشدد کا باعث ہے، ایک سازشی نظریہ ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ جائیں۔ لیکن اس بات کی کوئی شہادت نہیں ہے کہ امریکی، دھماکوں کے ذریعے ہمارے ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ ممکن ہے کہ بھارت بلوچوں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کر رہا ہو لیکن بھات کا طالبان کی مدد کرنا پاگل پن ہی ہوسکتا ہے، کیونکہ طالبان بھارت کے سخت مخالف ہیں۔ اگرچہ یہ بات قابل یقین تو نہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ گھٹیا منطق ہو کہ طالبان سمیت پاکستان کے تمام دشمنوں کی مدد کی جائے۔ اس کے توڑ کا واحد طریقہ بھارت کے ساتھ امن قائم کرنا اور اس کے ساتھ ہی دنیا کو یہ بتانا ہے کہ بھارت کی ایسی سرگرمیاں انسانیت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو کسی بھی شورش میں اس کا ہاتھ ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

س: کیا ڈرون حملوں کا کوئی جواز ہے؟
یہ انسانی اور سیاسی بنیادوں پر بلا جواز ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان حملوں میں بعض طاقتور جنگجو ہلاک ہوئے ہیں، لیکن کتنے ہی معصوم لوگ بھی مارے گئے ہیں جن کا منفی ردعمل ہوا ہے۔ ان سے ہماری حکومت کی بھی بدنامی ہوئی ہے۔ اسی طرح ڈرون حملے درحقیقت ہماری مسلح افواج کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرتے ہیں۔

س: امریکہ افغانستان سے نکل جاتا ہے تو آئندہ کا منظر نامہ کیا ہو گا؟
امریکہ کو افغانستان اور عراق دونوں سے نکل جانا چاہیے۔ دونوں جگہ اس کی لڑائی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ امریکہ جاتا ہے تو ہمیں اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ افغانستان، بالخصوص اس کے جنوبی علاقوں پردوبارہ طالبان کی حکومت قائم ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پشتون علاقوں میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھے گا۔ لیکن اگر طالبان ہماری ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ لڑ سکتے ہیں اور قوم ہمارا ساتھ دے گی، کیونکہ ہماری حکومت کو امریکہ کی کٹھ پتلی نہیں سمجھا جائے گا۔

س: ماضی میں پاکستان کی کیا پالیسیاں ہونی چاہئیں تھیں؟
ہمیں حقیقی طور پر اور دیانتداری سے غیرجانبدار اور پر امن رہنا چاہیے تھا جبکہ کشمیریوں کے حقوق کا عالمی فورموں پر تحفظ کرنا چاہیے تھا۔ اسلامی جنگجوئوں کے ذریعے بھارت میں پراکسی وار اور کارگل جیسے ایڈونچر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ پاکستان کو سوویت یونین کے خلاف امریکی جنگ میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دینا چاہیے تھا۔ اسی طرح ہمیں 2001ء میں امریکہ کو فوجی اور لاجسٹک امداد فراہم نہیں کرنا چاہیے تھی۔

س: اب پاکستان کی پالیسیاں کیا ہونی چاہئیں؟
بلوچستان کے مسئلے سے نئے طریقے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اگر بلوچ ہمارے ساتھ خوش ہوں تو وہ بھارت کی امداد قبول نہیں کریں گے۔ جہاں تک فاٹا کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں ہمیں طالبان کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ سے کسی قسم کی امداد لینے سے انکار کر دینا چاہئے۔ البتہ امریکہ اور دوسرے تمام ملکوں کے ساتھ ثقافتی اورتعلیمی روابط قائم رکھنے چاہئیں۔ ہمیں اپنی سرزمین نیٹو فورسز کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیے۔ جہاں تک طالبان کے ساتھ ہماری اپنی لڑائی کا تعلق ہے، ہمیں یہ واضح کرنا ہو گا کہ طالبان کا ایجنڈا کیا ہے اور یہ کہ یہ ریاست عوام کی ملکیت ہے اوران کی رٹ قائم کرنا ہو گی۔ جب ہمارے لوگ دیکھیں گے کہ امریکہ اب اس لڑائی میں امداد فراہم نہیں کر رہا، تو وہ خود طالبان کے خلاف جنگ میں فوج کی مدد کریں گے تاکہ طالبان ریاست کے اندر ریاست قائم نہ کر سکیں۔ لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہونے والوں کی مدد کرنا بھی ہم پر لازم ہے۔ ہمیں لوگوں کی اس سوچ کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے وہ طالبان کے نظریات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں سکولوں میں ایسی نئی نصابی کتب رائج کرنا ہوں گی جن میں انسانی حقوق کی اہمیت بیان کی جائے اور امن پسند اقدار کو فروغ دیا جائے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں انصاف کے نظام کو مضبوط بنانا ہو گا، کیونکہ بعض طالبان گروپ جیسا تیسا انصاف فراہم کر رہے ہیں جبکہ ریاست ایسا کرنے سے قاصر ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں جنہوں نے ہمیں اس حال کو پہنچایا۔ ہمارے خلاف کوئی سازش نہیں ہو رہی۔ ہم نے غلطیاں کیں اور اب ان کے نتائج بھگت رہے ہیں۔

(بشکریہ ''ڈان'')