working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
مراسلات
اگلا شمارہ

پانی پر پاک بھارت جنگ کا خطرہ
خالد احمد
 
پاکستان اور بھارت کے مابین 1960ء میں سندھ طاس معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت بھارت نے تین دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر پاکستان کا تصرف تسلیم کیا تھا۔ پانی کی تقسیم کے حوالے سے اسے ایک کامیاب معاہدہ قرار دیا جا سکتا ہے جو دو جنگوں اور 2002ء کے کشیدہ حالات کے باوجود قائم رہاہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان، بھارت پر پانی چوری کا الزام عائد کر رہا ہے اور بگلیہار ڈیم کی تعمیر کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ خالد احمد کا اس بارے میں مختلف نقطہ نظر ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ معاہدے کے تحت بھارت دریاؤں کے پانی کو کچھ عرصے کے لئے استعمال میں لا سکتا ہے چنانچہ بگلیہار ڈیم کی تعمیر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔کچھ ایسا ہی مؤقف پاکستان کے واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کا ہے۔ (مدیر)

شاید پاکستان، بھارت کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیارہو رہا ہے لیکن یہ جنگ کشمیر پر نہیں ہوگی کیونکہ ایسا بے معنی معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ دریا کے پانی پر ہوگی جس کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ بھارت 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی نفی کرتے ہوئے اسے چوری کر رہا ہے۔ پاکستانی آرمی چیف نے بھی اپنے ایک دوٹوک بیان میں'پانی' کا تذکرہ کیا تھا، جسے بعدازاں وزیراعظم نے دہرایا۔ یہاں یک طرفہ میڈیا وار جاری ہے۔ بھارت تاحال ممبئی حملوں پر نالاں ہے۔ وہ جنگ کرنے کے لئے قطعی طور پر تیار ہے۔پاکستان میں ایک چیف ایڈیٹر کہتے ہیں کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اُن بھارتی ڈیموں پر جوہری حملہ کرے جہاں پاکستانی پانی کو چوری کرکے ذخیرہ کیا جا رہا ہے… وہ اس کے لئے جوہری میزائل تک بھی چلا سکتے ہیں۔

دنیا پانی پر جنگوں کے وقوع پذیر ہونے کی منتظر ہے۔ پانی پر ممکنہ جنگوں کی پیشین گوئی اقوامِ متحدہ نے کی تھی لیکن شماریاتی حقائق واضح کرتے ہیں کہ ریاستیں مشترکہ پانی پر بالغ نظری کا ثبوت دے رہی ہیں۔ اکانومسٹ نے مئی 2008ء کے شمارے میں لکھا تھا'' اوریگون سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق انہیں پتہ چلا ہے کہ دنیا کے263ایسے دریا جو ایک سے زیادہ ممالک سے گزرتے ہیں، وہ ان ممالک میں تنازعات پیدا کرنے کے بجائے تعلقات میں وسعت کا باعث بنے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران دریائوں کے پانی کو استعمال میں لانے کے لئے چار سو معاہدے ہوئے ہیںجن میںسے37پر تنازعات پیدا ہوئے ،30واقعات اسرائیل اور ہمسایہ ممالک کی حدود میں ہوئے جو خشک اور متنازعہ علاقہ تھا جہاں دریائے اُردن کا بالائی حصہ کشیدگی کا شکار رہا اوراس پر جنگیں ہوتی رہیں ، تاوقتیکہ 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل نے اس علاقے پر قبضہ نہیں کر لیا۔''
دریا کے بہائو کے زیریں جانب ہونے کی مشکلات
اکانومسٹ اپنی رپورٹ کا اختتام کرتے ہوئے لکھتا ہے''پانی کی تقسیم کے حوالے سے ہونے والے کچھ معاہدے بہت زیادہ مؤثر ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا سندھ طاس معاہدہ دو جنگوں اور 2002ء کے کشیدہ حالات میں بھی محفوظ رہا ہے۔'' شاید ہم یہ مشاہدہ غلط ثابت کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ ہم پاک بھارت مذاکرات کے نئے دور کے لئے روانہ ہو رہے ہیں جبکہ بھارتی آرمی چیف کشمیر میں دخل اندازی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پاکستانی قانون دان احمد بلال صوفی نے روزنامہ ''ڈان'' کے 20فروری 2010ء کے شمارے میں اصل مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے یعنی پانی کی قلت نہ کہ چوری۔ اور وہ 1960ء کے پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے کو بہتر بنانے کے لئے نئے مذاکرات تجویز کرتے ہیں جس کے تحت پانی کی قلت کی صورت میں معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔ معاہدے میں ماحولیاتی تبدیلی کی صورت میں 50برس کے بعد کے حالات کی پیش بندی نہیں کی گئی تھی جس کے باعث بارشیں کم اور گلیشئرز کے سکڑ جانے کا اندیشہ تھا۔

اس وقت پانی کی تقسیم کے معاملات، تنازعات کے حل کے مماثل پیچیدہ ہو چکے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت تنازعات کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔ ان کے کشیدہ تعلقات کا آغاز کشمیر سے ہوا اور ان کا اختتام تقریباً مزید نصف درجن جارحیت آموز عوامل پر ہوا، باوجود یکہ انہوں نے امن مذاکرات کئے۔ پانی ایک ایسا ہی تازہ ترین مسئلہ ہے۔ دریا کے بہائو کے زیریں جانب ہونے کے باعث ہمارے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔ ہمیں اس بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے کچھ پہلوئوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ دریا کے بہائو کی زیریں جانب ہونے کی وجہ سے پاکستان کے لئے فطری طور پر صورتحال پریشان کن ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ تمام خطے جودریا کے بہائو کے زیریں جانب واقع ہیں،انہیں اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے جن میںپاکستان اور بھارت کے صوبے بھی شامل ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے دریائوں کے پانی کو کشمیر میں سٹوریج کیا جائے۔ سندھ نہیں چاہتا کہ اُس کے دریائوں کا پانی پنجاب محفوظ کرے اور سندھ اسی حوالے سے آواز اٹھاتا ہے اور پنجاب پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور کچھ ایسا ہی طرز عمل پاکستان کا بھارت کے حوالے سے ہے۔

معاہدہ اچھا ہے قطع نظر اس کے کہ وہ طرفین کی طرف سے نفرت کا نشانہ بنے
بھارت میں ہر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر دستخط کرنا غلط تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ پانی کی تقسیم کے حوالے سے کسی معاہدے کا نہ ہونا دریا کے بہائو کے بالائی حصے پر تصرف رکھنے والے ملک کے لئے بہتر ہوتا ہے، اگر وہ عسکری طور پر مضبوط ہو۔ حتیٰ کہ پاکستان میں پنجاب اور سندھ پانی کی تقسیم پر جھگڑتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک 1960ء کے معاہدے کوتسلیم نہیں کرتے۔ کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ اس سے پاکستان کو کیسے فائدہ حاصل ہوسکتا تھاجب کوئی معاہدہ پاکستان کے لئے دریائوں کو محفوظ کرنے کے لئے موجود نہیں ہے۔بھارت میں وہ لوگ جو معاہدے کو ناپسندیدہ تصور کرتے ہیں،اُن کے پاس ایسا کرنے کا ایک معقول جواز ہے: سارے پانی پر قابض ہوجائو اور پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنے دو۔ یہ امر حیرت کا باعث بنتا ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر پانی کے لئے جنگ کی حمایت پائی جاتی ہے، خاص طور پر جب کوئی معاہدے کے تحت پاکستان کے ماضی کے رویّے کو دیکھتا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم کے حوالے سے تین طرح کے عوامل کا احاطہ کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سب سے پہلے دونوں ممالک کے واٹر کمشنر ز انڈس واٹر کمیشن کے توسط سے 'خدشات' کو دور کرتے ہیں۔ بعد ازاں ' اختلافات' کو حل کرنے کے لئے دونوں ممالک ورلڈ بنک سے رابطہ کرتے ہیں جو غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرتا ہے۔ تیسری سطح پر 'تنازعات' کے حل کے لئے مصالحتی کورٹ کی جانب رجوع کیا جاتا ہے جسے ورلڈ بنک نے اسی مقصد کے لئے تشکیل دیا ہے۔ دونوںممالک اس سارے عمل کے اخراجات برداشت کرتے ہیں اور عدالت بھی اخراجات برداشت کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ ' خدشات' بہت سارے ہیں لیکن بگلیہار ڈیم پر 'اختلاف' صرف ایک ہے، جو اس قدر نقصان دہ نہیںہے جیسا کہ پاکستان سوچتا ہے، جسے ہمارے نگران واٹرکمشنر جماعت علی شاہ بہرصورت حل کر سکتے ہیں۔ یہاں کوئی ' تنازعہ' نہیں ہے۔ یہ اُس ریکارڈ کا عکاس ہے جس کے تحت دنیا یہ تصور کرتی ہے کہ یہ باہمی انتظام کے حوالے سے ایک بہتر معاہدہ ہے۔ کیا ہم نے اس ریکارڈ سے کچھ سیکھا ہے؟

بھارت کوپانی ذخیرہ کرنے اور کچھ مغربی دریائوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہے
ہمارے باریش واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے ایک بار پاکستان کے دریائوں کے زیریں جانب واقع ہونے کے باعث پیدا ہونے والے خوف کو بالواسطہ طور پربیان کیا تھا، جب وہ بھارت سے مذاکرات کرکے واپس آرہے تھے جہاں انہوں نے بھارت کے بدنیتی پر مبنی موقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ آج انہیں ٹی وی پروگراموں میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، حتیٰ کہ اُن کے بارے میں انتہائی نازیبا رویہ اختیار کیا جاتا ہے کیونکہ اُن کا وسیع علم انہیں 1960ء کے معاہدے کی خلاف ورزی سے روکتا ہے۔ مباحثوں میں لوگ ان سے غصّے میں آجاتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ بھارت معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا، حتیٰ کہ وہ ہمارے دریائوں چناب، سندھ اور جہلم پر درجنوں ڈیم بنانے کے مرحلے میں ہے اور کشن گنگا سے پانی بھیج رہا ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ دریا کے بالائی حصّے کا حامل ملک کبھی معاہدہ نہیں کرے گا تاوقتیکہ اُسے اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آئے گا۔۔۔ ایسا فائدہ جو اُس ملک سے زیادہ ہو جو دریا کی زیریں جانب ہے۔ اگرچہ نہرو کو بھارت میں سندھ طاس معاہدہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے تین مغربی دریائوں کے کچھ پانی کو زراعت کے لئے تصرف میں لانے کا فائدہ دیکھ لیا تھا۔ معاہدے کی شق Cکے تحت بھارت مغربی دریائوں کے پانی کا بڑا رخ موڑ سکتا ہے اور اسے کئی ایک ماہ تک استعمال میں لا سکتا ہے۔تب ، مغربی دریائوں پر بجلی پیدا کرنے کے لئے پانی سٹوریج کرنے یا کسی دوسرے استعمال پر کوئی پابندی برقرار نہیں رہتی(شقE)۔ اگر پاکستان میں کوئی یہ شکایت کرتا ہے کہ بھارت ڈیم بنا رہا ہے اور ہمارے دریائوں سے کچھ پانی لے رہا ہے، تو وہ اپنی جہالت کی وجہ سے ایسا کہتا ہے۔

پانی کا انتظام، تنازعات کے انتظام کے مماثل
کمشنر جماعت علی شاہ کا مؤقف درست ہے۔ وہ معاہدے کی کسی خلاف ورزی کا مشاہدہ نہیں کرتے اور انہیں پانی کی قلت پر کوئی قانونی مسئلہ درپیش نہیں ہے کیونکہ معاہدہ اس معاملے کا احاطہ نہیں کرتا۔وہ محض یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں بھارتی مؤقف درست معلوم نہیں ہوتااور وہ یہ کہہ رہے ہیں۔پاکستان اور بھارت ایسی آفت کا سامنا کر رہے ہیں جس کی شدت کا وہ مقابلہ نہیں کرسکتے اور اس کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے ہے جس کا مشاہدہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ یہ آفت'بالواسطہ دشمن' ہے جس کے خلاف دونوں ممالک کومتحد ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں جنوبی ایشیا کی دوسری ریاستوں کا تعاون بھی حاصل کرنا چاہئے لیکن یہ اُسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب بھارت اور پاکستان اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں اورایک دوسرے کے لئے اپنے خیالات میں'مخاصمانہ' عنصر کے بجائے 'ہمدردانہ' عنصر شامل کریں۔اس کا مشاہدہ پانی کی تقسیم کے تناظر میں کیا جا سکتا ہے کہ پانی کے تنازعات حل ہوسکتے ہیں، اگر تعلقات میں ٹھہرائو ہو۔ یوں دوطرفہ آزادانہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔

دریا کے بہائو کے زیریں جانب میں واقع ہونے کا پاکستان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہے، خواہ جوہری ہتھیار ہوں یا نہ ہوں۔ تمام فوائد اس کے وسطی ریاست ہونے میں پوشیدہ ہیں اوراس کے تجارتی راہداری بننے کے مواقع موجود ہیں۔ خطے کی ریاستیں اپنے سامان کی نقل و حمل اور تیل اور گیس کی ترسیل کے لئے پائپ لائنوں کو بچھانے کے لئے پاکستان پر انحصار کر تی ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ دنیا میں 263دریا ایک سے زیادہ ممالک سے گزرتے ہیں تاہم وہ جنگوں کے بجائے تعاون میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ بہت سے پاکستانی پُریقین ہیں کہ یہ اُن کے لئے سود مند ہے کہ وہ امریکہ کے ذریعے اپنے مقاصد اور فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، باوجودیکہ امریکہ مخالف کردار ادا کیا جائے۔ پاکستان کے بھارت کے ساتھ ریکارڈ کو مدِنظر رکھنا چاہئے کہ پاکستان نے اپنی جارحانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کس قدر فائدے سے ہاتھ دھویا ہے۔ بھارت میں جو لوگ سندھ طاس معاہدے کو رد کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اسی نوعیت کا ردِعمل ظاہر کرے۔ہمیں بہرصورت یہ یاد رکھنا ہوگاکہ معاہدہ تنازعہ اُبھرنے کی صورت میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتا اور اقوام عالم خود کو بھارت کی مدد کرتے ہوئے پائیں گے، اگر انہوں نے پاکستان کو غلط تصّور کیا۔

شاہد جاوید برکی دوطرفہ تعلقات میں بہتری لانے کا مشورہ دیتے ہیں
پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ اور ورلڈ بنک کے سابق نائب صدر شاہد جاوید برکی فروری کے اواخر میں پاک بھارت وزرا ء مذاکرات کی ستائش کرتے ہوئے ''ڈان'' (16فروری2010ئ) میں لکھتے ہیں'' اگر آزاد فکر کی حوصلہ افزائی کی جائے، میری تجویز یہ ہوگی کہ اسلام آباد نئی ترجیحات پر مبنی مکالمے کا اہتمام کرے کہ دونوں ممالک کے مابین معاشی روابط کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ بھارت پاکستان کی معیشت اور اس کے استحکام میں اپنا حصّہ ڈالے۔ اس کا تعلق بہت سے شعبوں سے ہوسکتا ہے جن میں دونوں ممالک کے درمیان بلا تعطل تجارت بھی شامل ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف میں نجی شعبہ ایک دوسرے کی معیشت میں سرمایہ کاری کرے۔کشمیر کی سرحد کو تجارت اور لوگوں کی آمد و رفت کے لئے کھول دیا جائے جس نے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور دونوں ممالک تیسرے ملک سے تجارت کے لئے ایک دوسرے کو ٹرانزٹ کا حق دیں۔ یورپ کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ریاستیں جن کی تاریخ کشیدگی سے بھرپور رہی ہے،تجارتی روابط اُن کے مابین کدورتوں کو ختم کرنے کا بہتر طریقہ ہیں۔یہ سوچ حقیقت پسند طرزِ فکر کو فروغ دے گی۔''


(بشکریہ ''فرائیڈے ٹائمز'')
(ترجمہ: علی عباس)