working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document
 
Bookmark and Share
01 April 2017
تاریخ اشاعت

 پاکستان میں دینی مدارس اور حالیہ تناظر

شدت پسندی کا مذہبی بیانیہ اور علاج غم دوراں

ثاقب اکبر

ثاقب اکبر ناموعالم دین ،محقق اور البصیرہ ٹرسٹ اسلام آباد کے چیئرمین ہیں۔اسلام ، تاریخ ، تفسیر اور سیرت پر آپ نے کئی کتب مرتب کر رکھی ہیں۔متعدد علمی و ادبی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔پاکستان میں مذہبی و بین المسالک ہم آہنگی کے لیے ایک عرصے سے کوشاں ہیں ۔انہوں نے زیر نظر مضمون میں شدت پسندی اور خوارج کو موضوعِ بحث بنایا ہے اور اس میں فکر و نظر کے لیے نئے در وا کئے ہیں ۔ (مدیر)

شدت پسندی کی وجوہات پر بہت بات ہو چکی۔ اس کی وجوہات داخلی بھی ہیں اورخارجی بھی۔ مسلمانوں کا طرز حکمرانی بھی ہے اور استعماری طاقتوں کی کارفرمائی بھی، جہالت بھی ہے اور بے روزگاری بھی۔ آپ ہر موضوع پر الگ سے کتاب لکھ سکتے ہیں اور واقعات و اعداد و شمار کی روشنی میں کسی بھی پہلو سے دلائل کے انبار لگا سکتے ہیں۔ تاہم اس سے انکار ممکن نہیں کہ آج کی عالمگیر شدت پسندی نے ظاہری طور پر مذہبی لباس پہن رکھا ہے اور وہ مذہبی بیانیے کے سہارے آگے کی طرف بڑھتی ہے اور اسی بیانیے کی بنیاد پر اسے حامی اور فدا کار میسر آتے ہیں۔ 
ایک عذر
بعض مذہبی راہنماؤں کا کہنا یہ ہے کہ شدت پسندی سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین کے مابین بھی ہے اور سیاسی معرکے خون ریز بھی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح لسانی اور جغرافیائی رزم آرائیاں بھی ہیں لیکن شدت پسندی کو مذہب سے جوڑنے والے ان پہلوؤں سے غافل ہو جاتے ہیں یا لوگوں کو غافل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس طرح سے خواہ مخواہ مذہب کو بدنام کیا جاتا ہے۔
ہمیں اعتراف ہے کہ ان دلائل میں بھی وزن ہے لیکن دوسری طرف اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی آج بڑی دہشتگرد تنظیمیں مذہب ہی کا سہارا لے کر انسانیت کو خاک و خون میں نہلا رہی ہیں۔
مختلف ادیان میں شدت پسندی
مقدمے کے طور پر یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ شدت پسندی فقط اسلام کا نام لینے والے بعض گروہوں کی طرف سے نہیں بلکہ بعض دیگر مذاہب اورادیان کا نام لینے والوں کی طرف سے بھی شدت پسندی کے مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف مذاہب و ادیان کے مابین شدت پسندی کے رجحانات سامنے آتے رہے ہیں اور عصر حاضر میں بھی ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں کہ جنھیں مذہبی شدت پسندی کہے بغیر چارہ نہیں۔ روہنگیا کے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دینے والے اپنے آپ کو بدھ مت کا پیروکار ہی بتاتے ہیں۔ یہ وہی بدھ مت ہے جس کا بانی انسانیت اور امن کی علامت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اسی طرح 2002ء میں گجرات میں ہونے والا مسلمانوں کا قتل عام ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں رونما ہوا۔ جدید تاریخ کا یقینی طور پر یہ ایک ہولناک واقعہ تھا۔ کچھ اور پیچھے چلے جائیں تو مسیحیوں کے مختلف گروہوں کے مابین بھی خون آشام واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ 
یہ سب کچھ افسوسناک ہے اور ایک انسان ہونے کے ناتے جہاں بھی کسی بے گناہ انسان کا خون بہا ہے وہ کسی بھی مکتب و مسلک سے تعلق رکھتا ہو ہمارے نزدیک غمناک ہے۔ انسانیت کا مشترک درد ہمیں کسی بھی مظلوم سے رشتہ توڑنے کی اجازت نہیں دیتا اور کسی ظالم کی تائید پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ 
ناسخ یہ سب بجا ہے لیکن تو عرض کر
یہ سب کچھ درست ہے لیکن شک نہیں کہ آج کی سب سے خوفناک عفریت اسلام کے نام پر ظہور میں آنے والی دہشت گردی ہے۔ دنیا میں آج انسانیت کا خون جس بڑے پیمانے پر ارزاں ہو چکا ہے اس کی مثال شاید تاریخ انسانی پیش نہ کر سکے۔ اسلام کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام اور مسلمانوں کی ریاستوں کی بربادی کی غمناک داستان جس انداز سے آج رقم ہو رہی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آنے والا دور آج کے اس دور پر ہمیشہ خون کے آنسو بہائے گا اور انسانیت اس پر ہمیشہ نوحہ کناں رہے گی۔ 
مسلمانوں میں پہلا دہشت گرد گروہ
مسلمانوں کے ماضی میں خوارج کا ظہور دہشت گردی کی پہلی منظم شکل کے طور پر ہوا۔ آج کی شدت پسندی کے مذہبی بیانیے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے بہت مناسب ہے کہ ہم ایک نظر خوارج کے ظہور کے پس منظر پر ڈال لیں۔ 
امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے دور خلافت میں شعبان 37ھ میں جب جنگ صفین اختتام پذیر ہونے کے قریب تھی تو افواجِ شام کی جانب سے قرآن نیزوں پر بلند کیے گئے۔ جس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ آئیں قرآن کی بنیاد پرآپس میں فیصلہ کریں۔ امیرالمومنین کی افواج میں اس دعوت کی سنجیدگی وعدم سنجیدگی کے حوالے سے اختلاف پیدا ہوا۔آپ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے تھے مگر فوج کے ایک اہم حصے نے اس دعوت کو قبول کرنے پر اصرار کیا۔ بہرحال دونوں طرف سے حکم مقرر ہوگئے۔ جب معاہدۂ تحکیم طے پا گیا تو ایک گروہ نے تحکیم کی مخالفت شروع کردی۔ بدقسمتی سے یہ وہی گروہ تھا جو پہلے تحکیم کو قبول کرنے پر مصرتھا۔یہاں تک کہ ان لوگوں نے حضرت علیؓ کو دھمکی دی کہ اگر آپ نہ مانے تو ہم آپ کے خلاف تلوار اٹھا لیں گے۔ 
بعد میں انہی افراد نے ’’لاحکم الاللّٰہ‘‘ کا نعرہ لگایا،جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ کسی کو حکم مقرر کرنا خلاف اسلام ہے۔ حضرت علیؓ نے ان سے کہا کہ کیا یہ تم ہی نہیں تھے کہ جنھوں نے تحکیم کو قبول کرنے کے لیے مجبورکیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ایسا کرکے گناہ کیا تھا جو باعث کفر تھا ،اب ہم نے توبہ کرلی ہے۔ آپ بھی اسے قبول کرکے کافر ہوچکے ہیں لہٰذا آپ بھی توبہ کریں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ حکم مقرر کرنا غلطی نہیں، نہ خلاف اسلام ہے اور نہ کفر۔ لیکن ان کا کہنا یہ تھا کہ علیؓ اپنے کفر کا اقرار کریں اور توبہ کریں، ورنہ ہم ان کے خلاف لڑیں گے۔ انہی لوگوں کو’’ خوارج‘‘ کہا گیا کیونکہ یہ گروہ بعدازاں ساری امت کو کافر اورخود کومسلمان قرار دے کر امت سے جدا ہوگیااورامت کے خلاف تیغ زنی کرتا رہا ۔
آہستہ آہستہ ایک مکمل خارجی مذہب وجود میں آگیا۔ ان کے اپنے مذہبی اصول وفروع ہیں۔ ان کا مختصر تعارف مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ان الفاظ میں کروایا ہے:
یہ گروہ جنگ صفین کے زمانہ میں اس وقت پیدا ہوا جب حضرت علی ومعاویہ اپنے اختلافات کا تصفیہ کرنے کے لیے دو افراد کے حکم مقرر کرنے پر راضی ہوئے۔ اس وقت تک یہ لوگ حضرت علیؓ کے حامیوں میں سے تھے۔ مگر تحکیم پر یہ اچانک بگڑ گئے اورانھوں نے کہا کہ خدا کے بجائے انسانوں کو فیصلہ کرنے والا مان کر آپ کافر ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد یہ اپنے نظریات میں دور سے دور نکلتے چلے گئے اورچونکہ ان کے مزاج پُر تشدد تھے نیز یہ اپنے سے مختلف نظریہ رکھنے والوں کے خلاف جنگ اور غیر عادل حکومت کے خلاف خروج (مسلح بغاوت) کے قائل تھے اسلیے انھوں نے ایک طویل مدت تک کشت وخون کا سلسلہ برپا رکھا۔(۱)
علامہ مفتی جعفر حسین نے ان کی شدت پسندی اور بے اعتدالی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
اس اثنا میں خوارج کی شوریدہ سری و شورہ پشتی نے قتل وغارت گری کی صورت اختیار کر لی اورنوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ راستے میں انھیں جو شخص ملتا اس سے تحکیم کے بارے میں پوچھتے۔ اگر وہ اس سے اظہار بیزاری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے ورنہ اسے قتل کردیتے۔ البتہ غیر مسلم کو ذمی ہونے کی بنا پر چھوڑ دیتے اورمسلم کے لئے ان سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتا بلکہ خنزیر پر ہاتھ اٹھانا گناہ اورمسلمان کو قتل کرنا کار ثواب سمجھتے۔(۲)
خوارج کی ماہیت
غور کیا جائے تو اس گروہ نے اپنے تمام طرز عمل کے لیے مذہب ہی کا سہارا لیا۔ اس نے قرآن ہی کو اہل قرآن کے خلاف استعمال کیا۔ اس گروہ کی ماہیت کے مندرجہ ذیل عناصر ہمارے سامنے آتے ہیں۔
۱۔ اس نے اپنے تمام کاموں کے لیے مذہبی دلائل اختیار کیے، گویا مذہبی بیانیہ اپنایا۔ 
۲۔ اپنے تمام مخالفین کو کافر قرار دیا۔ یہاں تک کہ جو صحابہ کرام ان کے نظریے کی تائید نہیں کرتے تھے ان کو بھی کافر کہنے سے نہ چوکے۔
۳۔ اپنے نظریے کے نفاذ کے لیے انھوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور مسلح بغاوت شروع کردی۔ 
۴۔ شکل و صورت، ظواہر اور وضع قطع مسلمانوں اور مذہبی شخصیات کی اختیار کی۔ 
غور کیا جائے تو آج کے شدت پسندوں کے اندر بھی یہی عناصر نمایاں طور پر دکھائی دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دور کے خوارج کو پہچاننے کے لیے ہمیں ان کے وجود میں سے انہی عناصر کو پہچاننا ہوگا۔ 
آج کے خوارج کا نیا سہارا
دور حاضر میں خوارج نے اپنے اعمال کے لیے ایک ایسی چیز کا بھی سہارا لیا ہے جو ماضی کے خوارج کو میسر نہ تھی اور وہ ہے تکفیر اور شدت پسندی پر مبنی فتاویٰ۔ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو یہ فتوے مسلمانوں کی ہر سرزمین کے کئی ایک نامور افراد کی طرف سے میسر ہیں۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان افراد میں بعض ایسے علماء بھی شامل ہیں جن کا ایک یا کئی ایک گروہوں میں بہت احترام پایا جاتا ہے۔ بعض مذہبی گروہ ان شخصیات کو اپنے ’’اسلاف‘‘ میں شمار کرتے ہیں۔ ان ’’علماء‘‘ نے مختلف مفروضوں کی بنیاد پر مختلف گروہوں کو کھلے بندوں گمراہ، منحرف، مشرک، کافر، بدعتی وغیرہ جیسے عنوان دے رکھے ہیں۔ 
خاموش تکفیری
اس وقت ایسے افراد مختلف گروہوں میں موجود ہیں جو ان فتاویٰ سے ہٹ کر رائے رکھتے ہیں اور عملی طور پر ان فتاویٰ سے جدا حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن جرأت سے اپنے ان اسلاف کے ان فتاویٰ کی تردید کم ہی لوگ کرتے ہیں۔
بعض ایسے افراد بھی ہیں کہ جو عقیدہ تو وہی رکھتے ہیں جو ان فتاویٰ میں مذکور ہے لیکن خارجی دباؤ کی وجہ سے خاموشی اختیار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ عقیدے کے مطابق تعامل بھی ہو۔ وہ عقیدہ اور تعامل میں فرق روا رکھتے ہیں۔ اگرچہ جو لوگ ان فتاویٰ کی بنیاد پر اسلحہ اٹھائے ہوئے دیگر گروہوں پر حملہ آور ہیں، ان کی نسبت اسلحہ نہ اٹھائے ہوئے ان کے ہم عقیدہ افراد کو بہتر ہی قرار دینا چاہیے لیکن اس بات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ جب حالات ان’’خاموش تکفیریوں‘‘ کے لیے ’’ساز گار‘‘ ہوجائیں گے تو وہ بھی وہی عمل کریں گے جو اسلحہ بردار کررہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان دو گروہوں میں فقط حکمت عملی کا اختلاف ہے ورنہ جنھیں شدت پسند قتل کررہے ہیں ان کو یہ ’’خاموش تکفیری‘‘ شدت سے ناپسند ہی کرتے ہیں۔ 
ایسے لوگ بھی ہیں جو بظاہر اسلحہ نہیں اٹھائے ہوئے لیکن ان کے دل اسلحہ بردار شدت پسندوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہمیں افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اہم مذہبی جماعتیں ایسی ہی قلبی کیفیت کی حامل ہیں۔ اس کے کئی مظاہر ہم دیکھ اور سن چکے ہیں۔ 
ہماری رائے یہ ہے کہ اگر علمائے اسلام نے اس ساری صورت حال کا سنجیدہ تجزیہ کرکے جرأت مندی کے ساتھ عصری شعور کا ثبوت دیتے ہوئے امت کی راہنمائی نہ کی تو اس خرابی کی رفتار مزید تیز ہو جائے گی جو پہلے ہی بسیار ہو چکی ہے۔ 
سنجیدہ کوششوں کا اعتراف
ہمیں اعتراف ہے کہ بعض علماء نے اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور اس سلسلے میں ان کے متعدد عالمی اور مقامی اقدامات لائق تحسین بھی ہیں لیکن یہ کہے بنا بھی چارہ نہیں کہ ابھی ایسے اقدامات کی تاثیر ہمہ گیر نہیں ہوئی اور عوام کی نچلی سطحوں تک اس کا اثر نہیں پہنچا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری نظر میں کثیر تعداد میں علمائے کرام کی وہی کیفیت ہے جس کے طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے۔
تکفیری فتووں سے نجات
شاید اس کے لیے ایک طریقہ کار یہ ہو کہ وہ بزرگ اور موثر علماء اور مسلمانوں کی موثر حکومتیں جو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں، علماء اور عوام کی مثبت تربیت کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی طے کریں۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ ماضی کے تکفیری فتووں سے نجات حاصل کی جائے۔ 
ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ ان ’’اسلاف‘‘ کی بے حرمتی کی جائے جن کے فتووں کے سہارے آج کی دہشتگردی ہرطرف آگ لگائے پھرتی ہے، البتہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تاویل کی جائے اور ان کے مثبت کاموں کو نمایاں کیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے بہت سے فتووں کو ان کے اپنے دور کے لیے یا بعض مخاطبین کے لیے قرار دیا جائے۔ علاوہ ازیں یہ واضح کیا جائے کہ جن شرائط کی بنیاد پر فلاں فتویٰ دیا گیا تھا، عصر حاضر میں وہ شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ اس طرح کی تاویلات اور وضاحتیں ممکن ہے اس سامان آتش و خوں کو مٹی تلے چھپا سکیں۔ 

اسلاف پرستی کی روش پر ایک نظر
ہمیں اسلاف پرستی کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ قرآن و سنت ہے۔ اس کے علاوہ امت میں سے کسی بھی شخصیت نے جو بات کہی ہے اسے قرآن و سنت کی طرف لوٹایا جانا چاہیے کیونکہ کسی بھی شخصیت کی کوئی رائے اس کا اپنا فہم ہوتا ہے۔ اس فہم کو دائمی طور پر مقدس قرار دینا گویا بغیر کہے شخصیت کو مقام عصمت پر فائز کردینا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ شخصیات عظیم نہیں ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے فہم میں کسی بھی مقام پر کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے یا وہ ایک خاص دور، گروہ یا فرد کے لیے ہو سکتا ہے اور زمان و مکان کے بدلنے سے رائے بدلنے کا راستہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے۔ 
شدت پسندی کے عالمی سطح پرمنفی اثرات
اہل دین کو اس شدت پسندی کے منفی اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں مندرجہ ذیل نکات قابل توجہ ہیں:
* اس شدت پسندی کو اسلام دشمن اسلامو فوبیا کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ 
* اسلام کی تبلیغ کا عمل اس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ 
* مسلمانوں کو عالمی سطح پر طرح طرح کی مشکلات اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ 
* کئی ایک مسلمان ملکوں پر شدت پسندی کے الزام کے سہارے طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ روزافزوں ہے۔ 
* شدت پسندی کی وجہ سے کئی ایک مسلمان ملک بری طرح سے تباہ حال ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ کہیں رکتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔
* مسلمان ملکوں کا بہت سا سرمایہ اس شدت پسندی کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف ہورہا ہے جس کے نتیجے میں ترقیاتی عمل اور تعلیم و صحت جیسے اہم شعبوں پر مناسب توجہ مبذول نہیں ہوپا رہی۔
* دین گریزی اور الحاد پرستی کے رویے فروغ پا رہے ہیں۔ خود مسلمان ملکوں کے بہت سے پڑھے لکھے افراد دین سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں۔ 

علاج غم دوراں
اگر یہ نتائج ہم نے درست اخذ کیے ہیں تو پھر ہمارا یہ دردمندانہ مطالبہ بھی درست ہے کہ آئیے دین اسلام اور مسلمانوں پر پڑی اس افتاد کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ، ٹھوس اور ہمہ گیر حکمت عملی طے کریں کہ جس سے ہمارے حالات روبہ اصلاح ہوجائیں۔ 
ہماری رائے ہے کہ عصر حاضر میں مسلمان مفکرین اور دانشوروں کو ایک جدید اسلامی تہذیب کے نظریے پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ 
جدید اسلامی تہذیب کو یقینی طور پر دین کی آفاقی تعلیمات کی بنیاد پر ہی استوار ہونا ہوگا لیکن آج انسانی فکر و دانش جس سطح پر پہنچ چکی ہے اسے نظر انداز کرکے ایسی کسی تہذیب کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ ہماری رائے میں انسانیت کو ایک آفاقی تصور دین کی بنیاد پر اٹھی ہوئی تہذیب کی ضرورت ہے جو انسان کی مادی ضروریات کے ساتھ ساتھ اس کی معنوی اور روحانی ضروریات کو بھی ملحوظ نظر رکھے۔ اس کے لیے ایک ایسے تصورِ کائنات اور معرفتِ انسان کی ضرورت ہے جو ہمہ گیر ہو۔ ظاہر ہے ایسے کام کے لیے اس درجے کے مفکرین کی ضرورت ہے جو دین کی حقیقتوں کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں سے بھی آگاہ ہوں۔ یہ موضوع ایک تفصیلی مقالے کا متقاضی ہے لیکن ہمیں اس پر اصرار ہے کہ امت مسلمہ کی زبوں حالی اور پستی کا علاج اسی نسخۂ کیمیا میں پوشیدہ ہے اور اسی کو ہم علاج غم دوراں قرار دیتے ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ مودودی ،ابوالاعلیٰ : خلافت وملوکیت ،ص ۵۔۲۱۳ط: اسلامک پبلیکیشنز لمٹیڈ، لاہور، اشاعت ششم،(۱۹۷۲)
۲۔ مفتی جعفر حسین،سیرت امیرالمومنین(المعراج کمپنی،لاہور،شوال ۱۴۲۴ھ)،ص:۶۳۴