ڈاکٹر حئی ،ایک آزاد منش رہبر۔
بلوچستان سیاسی طور پر پاکستان کے دیگر اکائیوں کی نسبت ہمیشہ فکری و نظریاتی سیاست کے لحاظ سے مستحکم رہا ہے، بی ایس او نے بطور ایک کیڈر ساز سیاسی ادارہ بلوچستان کو عظیم رہبر عطا کیے جن کے نام، کام اور سیاسی آدرش محکوم اور مظلوم اقوام کی بقا اور تشخص کےلیے رہنمایانہ کردار کے حامل رہے ہیں۔
جب بلوچستان کی سیاست میں کمٹمنٹ، استقامت، صبر، استقلال اور مسلسل جدوجہد کا ذکر آئے گا تو ڈاکٹر حئی کا چہرہ تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نمودار ہوگا۔
ڈاکٹر حئی بلوچستان کی نیم سیاسی قبائلی اور جاگیردارانہ سیاست کے اندر محکوم اور پسے ہوئے طبقات کی ایک توانا اور مضبوط تاریخ ساز کردار رہے ہیں۔
اگر ہم ڈاکٹر حئی کے سیاسی پس منظر میں جائیں تو جس قومی سیاسی پلیٹ فارم پر بلوچستان فخر کرتی ہے یا پاکستان کی سیاست میں نظریاتی تربیت اور مضبوط کمٹمنٹ کو دیگر اکائیوں سے ممتاز کرتی ہے وہ بی ایس او ہے،
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک ایسا قومی ادارہ جنہوں نے بلوچستان کو پاکستان کی سیاست سے برتر عوامی سیاسی رہنما عطا کیے، بی ایس او کے بانی چیئرمین یہی ڈاکٹر حئی تھے جن کا فیملی بیک گراؤنڈ مستحکم قبائلی سیٹ اپ کے اندر ایک عام گھرانے سے ہے لیکن آپ نے زندگی بھر بالادست طبقوں کے خلاف محکوم اور پسے ہوئے طبقے کی بھرپور نمائندگی کی۔
ڈاکٹر حئی نے بطور اسٹوڈنٹس لیڈر جو نام کمایا وہ عمر کے آخری حصے میں بھی برقرار رہا اور یہ وصف بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی یے۔
بی ایس او کی بنیاد رکھنے والے غریب گھرانے کی فقیر منش مگر عظیم شخصیت نے دوران طالب علمی اپنی فکری بلندی اور نظریاتی پختگی کے سبب 1970 کے الیکشن میں صرف ایک نواب زادے کو نہیں بلکہ فرسودہ قبائلی سیٹ اپ کو ہی شکست دی اور پوری عمر اسی سیاسی پیرائے میں رہ کر ایک عوامی رہبر کے طور پر جہد مسلسل میں پوری عمر بتائی۔
ڈاکٹر حئی بلوچستان کے ان تین اراکین قومی اسمبلی میں شامل رہے جنہوں نے مظلوم قومیتوں کے حقوق کی خاطر وزیراعظم بھٹو کے تشکیل کردہ آئین کے چند نکات پر اعتراض کیا اور مدلدل انداز میں نظریاتی تفاوت رکھتے ہوئے آئین پر دستخط کرنے سے انکار کیا۔
بلوچستان کی منقسم سیاسی منظر نامے میں ڈاکٹر حئی دراصل ایک شخصیت نہیں سیاسی نظریے کا نام ہے اور وہ سیاسی نظریہ متوسط مڈل کلاس طبقے، مظلوم اور محکوم اقوام کی بالادستی کے لیے جدوجہد کا نام ہے۔ تمام عمر سیاست کی صحرا میں مسافت کرتے ہوئے ڈاکٹر حئی نے عمر کے کسی بھی حصے میں مراعات، سیٹ اور وزارت کے لیے اپنے مضبوط سیاسی آدرش کا سودا نہیں کیا، انہوں نے سیاست کے ذریعے دولت نہیں کمائی، بنگلے کوٹھیاں نہیں بنائیں، زمینیں اور جاگیر نہیں لیں، باپیادہ تھے باپیادہ رہے۔ عوامی لیڈر تھے ہمیشہ عوام کے اندر رہے خود کو کبھی بالا نہیں سمجھا اپنی سیاسی بصیرت پر کبھی غرور نہیں کیا۔
وہ بلند پایہ لیڈر تھے، ان کی سیاست کا محور غریب اور پسے ہوئے عوام تھے، ڈاکٹر حئی نے زندگی بھر نامراد قبائلی سیاسی سیٹ اپ کے خلاف مزاحمت کی۔ انہوں نے ہمیشہ بالادست قوتوں کے مقابلے میں استحصال کی شکار قوم کی رہنمائی کی۔اس لیے وہ بلوچستان کی نظریاتی و فکری سیاست میں ایک مزاحمتی کردار کے طور پر زندہ رہیں گے۔
تمام عمر فکری سیاست کے باوجود چوں کہ وہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ایک نواب اور سردار کی طرح انہیں وہ شہرت نہیں ملی جس کے وہ حق دار تھے، حالانکہ ان کا مقام و مرتبہ سیاسی تفاوت کے باوجود نواب خیر بخش، سردار عطاء اللہ مینگل، نواب اکبر خان، میر غوث بخش بزنجو یا اپنے کسی ہم عصر سے کم نہیں ہے۔
وہ غریب گھرانے میں پیدا ہوئے، تعلیم پائی مگر تعلیم کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، ڈاکٹر بنے مگر ایک سیاسی مسیحا کے طور پر سماج میں سیاسی استحکام کے لیے جدوجہد کی۔
ڈاکٹر حئی نے جتنی عمر سیاست کی وہ استقامت کے ساتھ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے، کبھی بھی اپنے اصولوں کے خلاف نہیں گئے، اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی سردار سیاست ان کے خون میں اول روز سے شامل تھا اور آخر تک شامل رہا۔
وہ کبھی نہیں بکے، کبھی نہیں جھکے، نہ کبھی اپنے اصولوں پر سودا بازی کی، تمام عمر ایک سیاسی رہنما کے طور پر بلوچستان کی گلی کوچوں میں ادھر ادھر بھٹکتے رہے۔
ڈاکٹر حئی بلوچستان کے واحد سیاسی لیڈر رہے ہیں جنہوں نے مختلف سیاسی تنظیموں کی بنیاد رکھی۔
ان میں بلوچ طلبہ کی نمایاں تنظیم بی ایس او، بی این وائی ایم، بی این ایم ،نیشنل پارٹی اور آخر میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں جن میں سے بعض کے وہ بانی تھے اور کچھ کے بانی رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر حئی نے جس پیرائے میں سیاست کی، لوگوں کو ان سے اختلاف رہا ہوگا، مگر ایک پختہ نظریاتی اور فکری سیاسی لیڈر کے بطور انہوں نے ذاتی حیثیت میں ہمیشہ سب کا احترام کیا اور سب سے احترام پایا، وہ سیاست میں کبھی متنازعہ نہیں بنے۔
سیاست کی موجودہ پراگندیوں، مراعات، لالچ، ٹھیکہ کلچر کے باوجود بلوچستان کی نظریاتی و فکری سیاسی سرکل میں ڈاکٹر حئی ہمیشہ ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی سردار مگر بلند پایہ عوامی لیڈر کے طور پر زندہ رہیں گے۔یاد کیے جائیں گے اور مزاحمت کرتے رہیں گے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
فیس بک پر تبصرے