یہ ہفتہ پاکستان کی مختلف النوع واقعات پر مشتمل تاریخ کا ایک اور افسوس ناک باب تھا جب پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے مختلف شہروں میں فوجی تنصیبات اور دیگر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ شرپسندوں کو خبردار کرتے ہوئے آئی ایس پی آر نے سخت الفاظ پر مشتمل ایک بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ کی مذمت کی اور اسے دوہرے معیار کا حامل قرار دے دیا۔ یہ بیان تضادات پر مبنی ایک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جو کہ عمومی طور پر پورے پاکستانی معاشرے میں سرائیت کرچکی ہے اور اسے ایک ایسی خصوصیت دے چکی ہے جو اپنے آپ کو مرکز میں رکھنے پر یقین رکھتی ہے۔
اس بیان کے درست الفاظ یہ تھے: “ایک طرف شرانگیز عناصر نے ذاتی مقاصد کے لیے عوامی جذبات کو اشتعال دلایا اور دوسری طرف وہ ملک کے لیے مسلح افواج کی اہمیت پر روشنی ڈالا کرتے تھے جو کہ دوہراپن کی ایک مثال ہے۔”
پاکستان تحریکِ انصاف ظاہر ہے اس پر تردیدی بیان جاری کرتا مگر یہ کسی ایک جماعت یا ادارے کا مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان مجموعی طور پر دوغلاپن کے سینڈروم کا شکار ہے جو افراد میں بے چینی اور خوف اور مجموعی قومی کردار میں دوہرے معیار کا سبب بنتا ہے۔ ہمارا پورا نظام دوغلا ہے اور اس نظام کے چلانے والے اپنے آپ اور اداروں کے ساتھ مخلص اور سچا ہونے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ دوہراپن کے سیاست اور ڈپلومیسی میں مختلف مفہوم ہوسکتے ہیں مگر یہ ایک معاشرے کی مجموعی تصویر کے لیے مثبت نہیں ہے۔
دوہراپن پاکستان کے تمام بحرانوں کی جڑ ہے۔ یہ شنگھائی میں موجود ایک چینی دوست کا مشاہدہ تھا جو پاکستان میں کئی دہائیاں گزار چکا ہے اور ان کے یہاں کی طاقت ور اشرافیہ سے بہت زیادہ مراسم بھی ہیں۔ چینی لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور اپنے دوستوں کو اپنے دل میں موجود باتیں نہیں بتاتے جب تک وہ اسے بہت زیادہ ضروری نہ سمجھیں یا ان کے ساتھ ایک خاص سطح کی اپنائیت محسوس نہ کریں۔پاکستان کے لیے خوش سگالی کے جذبات رکھنے کی وجہ سے چینی پاکستان کے حالیہ سیاسی اور معاشی بحران کے لیے فکرمند ہیں۔ یہ حالات اس دوست کے لیے اتنے پریشان کن تھے کہ انہوں نے دل کھول کر باتیں کیں ۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ ان کاپاکستانی نظام اور یہاں کی اشرافیہ کی ذہنیت سے متعلق فہم حیران کن طور پر درست اور جامع تھا۔
ہمارے معاشرے میں موجود دوہراپن کا ظہور مختلف شکلوں میں ہوتا ہے جو پاکستان کے اندرونی اور بیرونی تعلقات میں واضح ہیں۔ اس مذکورہ چینی دوست نے پاکستانی حکام اور لیڈروں کے ساتھ اپنی کئی ملاقاتوں کا حوالہ دیا جو قومی مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہیں مگر آخرکار اپنے ذاتی مفاد کو فوقیت دیتے ہیں۔ یہ اداروں کے درمیان مزید عدم اعتماد کی فضا کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اجتماعی اور شخصی خصوصیات کے مختلف سطحوں سے پرتیں اتارنا جاری رکھا اور تمام بحرانوں کا صرف ایک ہی حل تجویز کیا: اپنے آپ کے ساتھ دیانت دار رہو۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین اور پاکستان کے تعلقات منفرد ہیں مگر ممالک عالمی اور علاقائی سیاق میں تزویراتی، معاشی اور سیاسی اتحاد سے جُڑے ہوتے ہیں۔یہ تعلقات اس وقت زیادہ مضبوط ہوں گے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کو جاننے اور میں زیادہ قوت صرف کریں۔ بیجنگ میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ پاکستانی اشرافیہ دل میں مغرب کی ہامی ہے۔اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے جو دلیل دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی سفارتی مشنز چینی ثقافت کو سمجھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی نا ہی وہ چائنیز زبان کی مہارتیں سیکھتی ہیں۔یہاں تک کہ چین میں کئی سال خدمات سرانجام دینے والے سفارت کار بھی چند ایک ہی چینی الفاظ بول سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بھارتی سفارتی مشنز کے کئی ایسے حکام ہیں جن کے پاس چائنیز زبان کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتیں ہیں اور وہ چینی اقدار کی بہتر سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
یہی کچھ چین کی علمی اور تعلیمی جانکاری پر بھی منطبق ہوتا ہے جو ہمارے جنوبی اور وسطی ایشیائی ہمسایوں کی نسبت ہمارے ہاں کم معیار کی ہے۔ موجودہ وقت میں چین پاکستانی طلبہ کے لیے سب سے بڑی منزل ہے جہاں قریباً 28 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جن میں زیادہ تر میڈیکل اور فزکس کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر کوئی بھی چینی فلسفے اور زبان کے شعبے میں نہیں ہے!وہ چینی زبان سے صرف اس حد تک تعلق رکھتے ہیں کہ اپنے امتحانات پاس کرسکیں اور ساتھ طلبہ اور اساتذہ سے تھوڑا بہت تعلق رکھ سکیں۔چائنہ میں ڈاکٹریٹ کے ایسے درجنوں پاکستانی طلبہ مل سکتے ہیں جو انڈر گریجویٹ کی سطح سے وہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں مگر انہیں چینیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اب بھی دوسروں کی مدد چاہیے ہوتی ہے۔ اکثر طلبہ چائنہ کو ایک ‘لانچنگ پیڈ’ کے طور پر دیکھتے ہیں اور مزید تعلیم اور ملازمت کے لیے ان کی نظریں مغربی ممالک پر جمی ہوتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ کہ مغرب کے سحر میں جکڑے ہونے کے باوجود کئی پاکستانی طلبہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں جس سے جامعات کی انتظامیہ جھنجھلاہٹ محسوس کرتی ہے۔ اس طرح کا رویہ چائنیز اسکالرشپ اور تعلیمی مواقع حاصل کرنے کے منتظر دوسرے طلبہ پر منفی طور پر اثرانداز ہوتا ہے۔
دو طرفہ تبادلے اور دونوں اطراف کے لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا چینی سفارت کاری کا اہم جزو ہے۔ البتہٰ حلال کھانا پیش کیے جانے کے باوجود پاکستانی وفود کو چینی کھانوں کے ذائقے سے خود کو آشنا کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے مگر وہ ہر قسم کی تفریحی سرگرمیوں میں خود کو مشغول کرنا پسند کرتے ہیں۔
بہت سارے چائنیز پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کو ملک اور سی پیک سے متعلقہ پراجیکٹس کے لیے سب سےبڑا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ داسو میں ایک حالیہ واقعہ جس میں ایک چینی انجینیر کو مبینہ توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا، چین میں تشویش کا باعث بنا۔ ایک عام چائنیز کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس طرح ایک ریاست شدت پسندانہ رجحانات کے لیے نرم گوشہ رکھ سکتی ہے اور ‘اچھی’ اور ‘بُری’ شدت پسندی پر یقین رکھ سکتی ہے جو کہ یقینی طور پر ہمارے نظام میں موجود دوہراپن کی بد ترین شکل ہے۔
خود سے مخلص ہونے کی اس چائنیز اسکالر کی یہ تجویز عملاً اپنانے میں مشکل ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیانت داری افراد، لوگوں اور اداروں میں جبراً داخل نہیں کی جاسکتی نا ہی یہ کسی انتظامی حکم سے نافذ کی جاسکتی ہے۔ ہم دوہرا پن کا جواز تراشنے کے لیے اس کی جگہ خوش فہمی اور فریب پر مبنی اصلاحات استعمال کرتے ہیں، مثلاً ‘ توازن’ جو کہ عموماً سیاسی و جغرافیائی سیاق میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ‘مفاہمت’ کی اصطلاح سیاسی تدبیر اور نظریاتی مفادات کو قائم رکھ کر عسکری اور مذہبی اشرافیہ کے متوازی معاشی اسٹرکچر کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے استعمال ہوتی ہے۔ اپنے درمیان تمام تر ظاہری اختلافات کے باوجود طاقت رکھنے والی اشرافیہ اپنے مفادات بڑھانے کے معاملے میں اس حد تک میں غیرمنقسم نظر آتی ہے کہ اس سے کوئی قومی بحران بھی جنم لے تو کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ اپنے مفادات حاصل کرنے کے بعد وہ دوبارہ اپنی پوزیشن پر جاتی ہے اور اگلے بحران کے لیے خود کو تیار کرتی ہے۔ یہاں کوئی بھی اپنے مفادات کی قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ‘نجات دہندہ’ ہونے والا بیانیہ پوری شدت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے جس سے جمہوریت اور اور شخصی آزادی عام لوگوں کی نظروں میں غیرمتعلقہ ہوجاتی ہیں اور دنیا میں ملک کا ایک غیرمستحکم ریاست ہونے کے تشخص کو مزید فروغ ملتی ہے۔
فیس بک پر تبصرے