سیکیورٹی کا بدلتا منظرنامہ

377

گزشتہ ماہ چین، ایران اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات اس سال کے شروع میں چین کی جانب سے سعودی عرب ایران امن معاہدے کے بعد ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس ڈائیلاگ کا مقصد ایران اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی کو کم کرنا، سکیورٹی اور اقتصادی تعاون میں اضافے کے امکانات کو وسیع کرنا ہے۔

یہ بلوچستان کے لیے اچھی خبر ہو سکتی ہے، جسے سیکیورٹی اور اقتصادی انضمام کے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم کسی بھی مثبت کوشش کے ثمرات صوبے تک پہنچنے کا انحصار ریاستی اداروں کے ارادے پر ہوتا ہے۔ علاقائی سلامتی اور سیاسی تناظر میں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور اس سے منسلک منصوبوں میں شامل ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا سہرا چینی سفارتکاری کے سر جاتا ہے۔

چین کے لیے، دہشت گردی بی آر آئی کے منصوبوں اور علاقائی تعاون کے تحفظ کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے، جس سے وہ دہشت گرد گروہوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ تاہم، چین افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں امریکی قیادت والے اتحاد کے مقابلے میں ایک الگ حکمت عملی استعمال کر تے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے پوزیشن میں ہے۔ چین کا مقصد اعتماد کو فروغ دینا اور ان کے متعلقہ مسائل کے حل میں اقوام کی مدد کرنا ہے۔ لیکن چین خطے میں دہشت گرد گروہوں بشمول تحریکِ طالبان پاکستان ، القاعدہ، داعش -خراساں یا پاکستان میں اپنے شہریوں کو نشانہ بنانے والے بلوچ باغیوں کے خلاف براہ راست فوجی مہم میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ چینی نقطہ نظر سے ایران اور پاکستان کے درمیان اعتماد کا قیام علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔

چین کے قرارداد کے فریم ورک کا مقصد ریاستوں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ دہشت گردی کے زیادہ تر خطرات بین الریاستی ہیں اور ریاستوں کے درمیان کمزور انسداد دہشت گردی تعاون، دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پرایران نے پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں جیش العدل کی موجودگی کے بارے میں اکثر خدشات کا اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ یہ مغربی اتحادیوں کی حمایت سے کام کرنے والی  سعودی پراکسی ہے۔ پاکستان نے باضابطہ طور پر بلوچ مزاحمت کاروں کی جانب سے ایرانی سرزمین کو اپنی سیکیورٹی فورسز اور سی پیک سے متعلقہ منصوبوں کے خلاف استعمال کرنے کی شکایات درج کرائی ہیں۔

رواں سال مئی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے مشترکہ طور پر دونوں ممالک کی سرحد پر ایک بازار اور بجلی کی ترسیلی لائن کا افتتاح کیا تھا۔ چین پاکستان ایران تعاون علاقائی سلامتی کو بڑھا سکتا ہے اور ایران میں پناہ لینے والے بلوچ باغیوں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

امید کی جا رہی تھی کہ ایران کا سعودی امن معاہدہ ایران اور پاکستان کے درمیان انسداد دہشت گردی میں تعاون کو آسان بنائے گا اور سعودی حکومت  ایران  مخالف  عناصر کی حمایت سے گریز کرے گی۔ شنگھائی تنظیم تعاون میں ایران کی شمولیت کو ملک کو سرحدی سلامتی  کے حوالے سے  تعاون کے دائرے میں لانے کے اقدام کے طور پر دیکھایا گیا ہے۔ بہت سے ماہرین اسے چین کی طرف سے ایران میں بھارتی  اثر و رسوخ کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں، جس سے ان کے دو طرفہ تعلقات میں تلخی آ رہی ہے، اور اس نے چین کو ایران اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

چین کے قرارداد کے فریم ورک کا مقصد ریاستوں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ دہشت گردی کے زیادہ تر خطرات بین الریاستی ہیں اور ریاستوں کے درمیان کمزور انسداد دہشت گردی تعاون، دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔

اس موقع پر علاقائی سلامتی کے محرکات  تیزی سے بدل رہے ہیں۔ دہشت گرد گروہ بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، اور اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں اور ان علاقوں کو بڑھانے کے لیے سخت  کوششیں کر رہے ہیں جہاں وہ کاروائیاں کرتے ہیں۔

حال ہی میں ژوب -ڈیرہ اسماعیل خان ہائی وے کے ساتھ  واقع ضلع شیرانی میں تین چوکیوں پر حملے ہوئے جس کے نتیجے میں دو افسران  سمیت چار سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ ان علاقوں کو  تحریکِ طالبان پاکستان کے خطروں  کا سامنا رہا ہے، جن میں موبائل فون ٹاورز پر بمباری اور سیکورٹی چوکیوں پر حملے شامل ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ژوب کے قریب ان کے قافلے کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں بال بال بچ گئے۔ اس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے ژوب کے علاقے سمبازہ میں آپریشن شروع کیا تاکہ دہشت گردوں کو مشتبہ راستوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان-افغان سرحد کو عبور کرنے اور خیبر پختونخوا  میں دراندازی کرنے سے روکا جاسکے، جس سے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو خطرہ لاحق ہے۔

اگست 2021 میں کابل میں افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، ٹی ٹی پی جیسے مذہبی طور پر محرک گروپوں نے بلوچستان میں 22 حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں سے زیادہ تر یعنی مجموعی طور پر تقریباً 14 ٹی ٹی پی سے منسوب تھے، جن میں بنیادی طور پر بلوچستان کے پختون علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان علاقوں میں کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ (چمن بارڈر)، شیرانی اور ژوب شامل ہیں۔ کچھ حملے گوادر اور مکران کے علاقوں میں بھی ہوئے جو سی پیک منصوبوں اور گوادر بندرگاہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

بلوچستان بالخصوص پختون علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں ٹی ٹی پی کی موجودگی  کی نشاندہی کرتی ہیں۔ حال ہی میں چوکیوں پر حملوں کے نتیجے میں چار سکیورٹی اہلکار شہید اور ایک مشتبہ دہشت گرد مارا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی نے بلوچستان کے پختون علاقوں میں انتشار پیدا کرنے اور بلوچوں کو مشتعل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلوچستان لیبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر باغی گروپ خود کو ٹی ٹی پی کے ساتھ کھلے اتحاد میں شامل ہونے سے روک رہے ہیں۔ تاہم، وہ بلوچستان میں خاص طور پر جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ سے متصل علاقوں میں بڑے پیمانے پر  حالات خراب  دیکھنا چاہتے ہیں، جن کو پہلے ہی شدت پسندی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بلوچستان میں چینی مفادات کو خطرے میں ڈالتی ہے، جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، بلکہ آخر الذکر صوبے کے استحکام کو بھی اس سے خطرہ ہے۔

سیکورٹی اداروں نے دہشت گرد گروہوں کے منصوبوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ تاہم  یہاں تک کہ ایک نئے خطے میں دہشت گردی کی چند کارروائیاں ملک کے سیکورٹی حلقوں اور بیرون ملک خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ چین، پاکستان اور ایران کے درمیان سہ فریقی سیکیورٹی میکنزم کا قیام بلوچستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے ان کے مشترکہ تحفظات کی عکاسی کرتا ہے۔ سی پیک  کے منصوبوں کے کامیاب نفاذ کے لیے بلوچستان میں استحکام بہت ضروری ہے۔ افغانستان اور اس کے ارد گرد پاکستان اور ایران کے ساتھ چین کے تعلقات کو  شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی فریم ورک کے اندر ایک دلچسپ  مقام حاصل ہے۔دوسری طرف  افغانستان کی مخدوش صورتحال تشویش کا باعث  بھی ہے۔

افغانستان، چین اور پاکستان بھی سلامتی پر الگ الگ سہ فریقی مذاکرات کا حصہ ہیں اور چین کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مسائل کے حل میں مدد کرنا ہے۔ تاہم، بنیادی حکمت عملی یہ بتاتی ہے کہ چین تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف دل سے کارروائی کرنے کے لیے طالبان حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ گروہ خطے میں تبدیلی کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالتے رہیں گے اور چین کے دشمنوں کو اس کے خلاف صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیں گے۔

یہ افغان طالبان کی قیادت کے لیے اپنے پڑوسیوں، خاص طور پر چین کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ طالبان حکومت اگر اپنے وعدوں پر عمل کرتی ہے تو چین اس کا اہم اقتصادی اور سفارتی دوست ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے، طالبان سے ایک سبق

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...