پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر
قبائلی او روایتی معاشروں کے ارتقاء کی کہانی عجیب وغریب حالات میں گردشیں کرتی رہتی ہیں، خصوصا جب سے قومی ریاست کا آغاز ہوا ہے۔ دنیا کے روایتی معاشرے اپنے ہونے یا نہ ہونے کے عذاب سے گزر رہی ہیں۔ زبان، تاریخ ، کلچر، روایات، اقدار، اور شناخت کے کئی حوالے ایسے ہیں جو اپنے وجود کے بنیادی سوال سے نبردآزما رہے ہیں۔ پشتو ن سماج چونکہ اب تک شفاہی روایت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور لکھ پڑھ کا رواج ابھی پیر جمانے لگا ہے لیکن پشتو زبان کی خواندگی کی ترویج ابھی اسی نہج پر پہنچا ہے جو سالوں پہلے تھا، اپنی زبان کے گُڑ سے اکثر تعلیم یافتہ نوجوان آج بھی اُتنے ہی نابلد اور نا آشنا ہیں جتنے نوآبادیاتی دور میں تھے۔
پشتو اکیڈمی کوئٹہ ۱۹۷۱ میں غالبا اسی نیت سے کھولی گئی تھی کہ نئی نسل کو اپنے زبان و ادب کی پیاس بجھانے کے لئے کردار ادا کریں۔ اکیڈمی جوکہ بنیادی طور پر ایک علامتی حیثیت رکھتا ہے، رفتہ رفتہ ایک کارواں کی شکل اختیار کرتی رہی، مرحومین سلطان صابر، قدوس دُرانی، عابد شاہ عابد، ابوالخیر زلاند، آغامحمد کاسی، فاروق شاہ سمائلزئی، سعید گوہر اور دیگر کئی اراکین نے اپنے زندگی کے قیمتی لمحے اکیڈمی کے زُلف سنوارنے میں گزارے۔ پشتو اکیڈمی کی تاریخ میں انقلابی تبدیلی تب آئی جب سید خیر محمد عارف صاحب لورالائی سے کوئٹہ منتقل ہوئے، خیر محمد عارف نے لورالائی میں پشتو زبان و ادب کی آبیاری کے لئے جو کاوشیں کئے اُس سے علم و ادب سے منسلک ایک نسل تیار ہوئی ہے جو معاصر پشتو ادب میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سید خیر محمد عارف صاحب ، خلیل باور اور اُن کے دیگر رفقائے کار نے اکیڈمی کو پہلی دفعہ پشتو زبان و ادب سے متعلق عالمی سیمینارز، سہ ماہی مجلہ، پشتو کی خواندگی کیلئے ضلعوں میں سینٹرز اور اس کے علاوہ پشتو زبان و کلچر سے متعلق متواتر آگہی کے پروگرام چلائے۔ اسی دورِ زرین میں اکیڈمیا اور عام عوام کے درمیان رابطے کی ایک کڑی قائم ہو گئی۔ عام لوگ آتے گئے اور لائبریری میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ پشتو اکیڈمی میں اپنے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی پریکٹس کرتے تھے۔
لیکن اکیڈمی کے اس طرز کے کئی ناقدین بھی تھے، اور اس میں کسی حد تک صداقت بھی ہے کہ ان کے اراکین کی تعداد بڑھنے کے بجائے گھٹتی گئی اور چند عمر رسیدہ افراد اس کے اراکین تھے۔ رواں سال کے مارچ میں عدالیت عالیہ (ہائی کورٹ) کی جانب سے ایک فیصلہ صادر ہوا، جس نے بیک وقت امیدیں بھی ابھاریں اور خدشات بھی۔ اکیڈمی کے موجودہ اراکین اس تبدیلی پر بُری طرح سے تقسیم ہوئے، البتہ مجلس عمومی میں کرائیٹیریا اور تعداد کو چیلنج کرنے کیلئے سپریم کورٹ کا رُخ کیا لیکن وہاں کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ اس دوران عدالتی فیصلے سے خوش اور عرصہ دراز سے منتظر ادیبوں نے سوشل میڈیا پر پشتو اکیڈمی کے بانی اراکین، صدر، جنرل سیکرٹری اور دیگر اراکین منتظمہ کے خلاف ایک باقاعدہ تحریک شروع کردی۔ اک طوفان بدتمیزی برپا ہوا جنہوں نے انتہائی دیانت اور جانفشانی سے اکیڈمی کیلئے رضاکارانہ طور پر اپنی زندگی کا اہم اور بڑا حصہ دیا تھا، اُن کی پگڑیاں اُچھالنا شروع ہوئیں، کوئٹہ جو پشتو ادب کا اک مرکز مانا جارہا تھا پشاور، کابل ، کندہار اور ننگرہار تک سے اہل قدم نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ یہ یک طرفہ تحریک صرف زبان و کلام تک محدود نہ رہا، تحریک کے سرکردگان میں سے ایک نے رواں سال کے جولائی میں پشتو اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری کی پوزیشن پر ازخود تمکنت اختیار کی، دُرانی سلطنت کے متحارب سدوزئی اور بارکزئی قبائل کے طرز پر تخت اور تختہ کا کھیل شروع ہوا۔ نو وارد اور خودساختہ جنرل سیکرٹری نے آو دیکھا نہ تاو ، پہلی فرصت میں ۶۸ ممبران کو ممبرشپ کا فرمانہ جاری کر دیا، نہ ادبی صلاحیت کو خاطر میں رکھا گیا، نہ کام اور کردار کی چانچ پڑتال کی گئی۔ سُننے میں آیا ہے کہ اک اور لسٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں چالیس اراکین کو شامل کئے جانے کی خبر گرم ہے۔
اس انقلابی اقدام نے اکیڈمی کے گورننس کو بُری طرح سے متاثر کی ہے، بانی اور عمر رسیدہ اراکین کی میڈیا ٹرولنگ اور مسلسل ہتک آمیزی میں روز افزوں تیزی آرہی ہے اور وہ جولائی سے اب تک اکیڈمی کی عمارت کے پاس سے بھی گزرنے سے کتراتے ہیں، لگتا ہے انہیں جلد یا بدیر اکیڈمی کی بنیادی ممبرشپ سے کنارہ کش ہونا پڑے۔
اکیڈمی کو یقینا نئے اراکین کی ضرورت ہے، ایسے اراکین جو زبان وادب کی تحقیق سے روشناس ہوں، جنہوں نے پشتو تحقیق یا تخلیق میں کوئی معرکہ سر کیا ہو، یا جو موجودہ دور کے چیلنجز کے پیش نظر اکیڈمی کے علمی و ادبی سفر کو نئی جہتوں اور نئے سنگ میلوں سے روشناس کرسکتے ہوں۔ابھی جو اراکین لئے گئے ہیں ان میں ایسے حضرات بھی ہیں جو پشتو لکھت پڑھت سے معذور ہیں۔ گروہ بندی کی اگر کوئی اچھی مثال دیکھنی ہو تو اکیڈمی کے اس فہرست کا سرسری جائزہ لیا جائے۔
میں خود اس وقت عدالتی فیصلے سے بے حد خوش ہوا لیکن اس پہلو سے مجھے کوئی آگہی نہ تھی۔ برسوں پہلے جو امید کی جارہی تھی کہ اس اکیڈمی سے نئی کونپلیں پھوٹیں گی، ژوب، لوارالائی، چمن، سبی، اور پشین میں الگ سی پشتو اکیڈمیز ہوں گی لیکن فی الحال تو عدالتی فیصلوں کی آڑ میں اکیڈمی مکمل بے اعتدالیوں اور انارکی کی حالت میں ہے۔ اصلاحات لازمی ہیں، اداروں میں اصلاحات ہی ہوتی ہیں، یہاں پر غلبے کی نیت سے انقلابات ادارے کو مکمل سکوت کی طرف لے جائے گا اور بے اعتدالیوں کی سبب اکیڈمی اپنے ارتقائی سفر اور منزل سے بھٹک بھی تو سکتا ہے۔۔
فیس بک پر تبصرے