نواز شریف کی نااہلی اور ممتاز قادری
ہم لوگ آخر کب تک تاریخ اور حقائق کو مسخ کریں گے؟ ہم کب تک تاریخ میں ہونے والے واقعات کی غلط تشریحات پیش کریں گے؟ ہمارے مذہبی راہنما کب اپنے اپنے مفادات سے نکل کر ہمیں سچ بتائیں گے؟
ہم پاکستان کے بننے کو معجزہ سمجھتے ہیں۔ہم ماضی میں بھارت کے خلاف چند جیتنے والی جنگوں کو معجزہ سمجھتے ہیں۔ہم 1992 کے ورلڈ میں پاکستانی کی تاریخی فتح کو معجزہ قرار دیتے ہیں.ہم 1998 میں ایٹمی طاقت بننے کو معجزہ سمجھتے ہیں۔2008 میں مشرف کی حکومت کے خاتمے کو لال مسجد پر ظلم کرنے کا نتیجہ معجزہ سمجھتے ہیں۔ہم 2017 کی چمپین ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کو معجزہ سمجھتے ہیں۔اور معجزوں کی اتنی فراوانی میں ہم اس زمین پر اپنی پیدائش کو بھی ایک معجزہ سمجھتے ہیں۔سو ہم ایک معجزاتی قوم ہیں۔لوگ کیا سوچتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا اسے بتانے سے قاصر ہیں.عوام کی سوچ پڑھنی ہو تو فیس بک سے بہتر کوئی چیز نہیں۔فیس بک بھی ہم پاکستانیوں کے لئے ایک معجزہ ہے۔
28جولائی کو عدالت نے میاں صاحب کی نااہلی کا فیصلہ سنا دیا۔ہم اس بحث میں پڑے بنا کہ وہ جھوٹے ہیں یا کرپٹ ہیں اس کہانی کی اصل وجہ تو 29 جولائی کو سامنے آئی جب چند لوگوں نے فیس بک پر ایک ویڈیو وائرل کی۔جس میں ایک پیر صاحب جو کہ اب اس دنیا میں موجود نہیں رہے ٹھیک آج سے چار سال قبل مسجد کی ایک محفل میں لوگوں سے خطاب فرماتے ہوئے کہہ رہے ہیں نواز شریف یہ جو تمہیں تیسری بار اقتدار مل گیا ہے تو خدا کا شکر ادا کرو یہ تمہیں مدینہ اور مکہ میں راتیں گزارنے کے سبب ملا ہے۔محمد کا فیضان ملا ہےاور آقا نے جمعہ کو اتوار پر فضیلت دی ہے۔میاں صاحب جو کچھ آپ اس قوم کے لئے کر سکتے ہیں وہ تو آپ نے وعدہ کیا ہے نا، جس بے وقوف نے آپ کو مشورہ دیا تھا جمعہ کی چھٹی ختم کرو اس کا مشورہ بھاڑ میں پھینکو اور جمعہ کی چھٹی بحال کرو۔تاکہ لوگ اس سرزمین پر شب جمعہ جس کی سینکڑوں احادیث فضیلت ثابت کرتی ہیں، اس دن عبادتیں کریں ۔آپ کے لئے بھی دعائیں کریں اور ہمارے لئے بھی دعائیں کریں۔آپ کی اسمبلی کے لئے بھی دعائیں کریں اور آپ کی مسلم لیگ کے لئے بھی۔اور میں ایک اعلان بھی کئے دیے دیتا ہوں۔میں جس بزم کا بندہ ہوں وہاں اعلان ہوتے ہیں میں بزم مصطفی ٰکا بندہ ہوں۔جب تک جمعہ کی چھٹی بحال نہیں ہوگی تمہارا اقتدار کامیاب نہیں ہوگا۔انشاءاللہ! اس کو پیش گوئی سمجھیں تو۔اس کو وارننگ سمجھیں تو،اسے چیلنج سمجھیں تو،آپ کا اقتدار بحال نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ ملک سرکار مدینہ کی عطا ہے۔جمعہ سرکار مدینہ کی عطا ہے غلطی سے یا جان بوجھ کر اس عطا کے حق میں میاں صاحب آپ سے خلاف ورزی ہوئی ہے۔مدینہ شریف جا کر معافی مانگو اور وہاں جا کر چھٹی کی بحالی کا اعلان کرو۔
یو ٹیوب اور فیس بک پر موجود اس ویڈیو کو پورے چار سال ہوچکے ہیں۔ ان پیر صاحب کے مقلدین اپنے پیر کی شان بیان کر رہے ہیں کہ ان کی یہ پیشن گوئی چار سال بعد درست درست ہوئی اور اسے معجزہ قرار دے رہے ہیں۔میں اس ویڈیو میں موجود پیر صاحب کے نقطہ نظر پر بحث سے پہلے جمعہ کی چھٹی کے چند تاریخی اور روشن پہلو آپ کے سامنےضرور رکھنا چاہوں گا۔
جمعہ کی چھٹی پاکستان میں بھٹو صاحب کے دور میں 1977 میں کی گئی جو کہ نظام مصطفی کے نفاذ کے لئے چند مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا جوکہ وزیراعظم بھٹو نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئےمذہبی جماعتوں کے دیگر مطالبات کے ساتھ اس چھٹی والے مطالبے کو بھی مان لیا۔سو آپ اس چھٹی کو PNA تحریک کا ایک شاخسانہ کہہ سکتے ہیں۔یہ اسلام کی وہی شکل تھی جسے ضیا الحق نے اپنے دور میں قائم رکھا جس میں صرف ظاہری حلیہ تبدیل کرنا مقصود تھا ۔جمعہ کی چھٹی پھر آگے کئی سالوں تک برقرار رہی۔جسے قریبا ًبیس برس کے بعد نواز شریف نے بزنس کمیونٹی کے مطالبات پر ختم کیا کہ بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت میں انہیں مسائل کا سامنا ہے چونکہ پوری دنیا میں جمعہ کے روز کے بجائے اتوار کے روز چھٹی ہوتی ہے سو جمعہ کے روز تجارت بند کرنے سے کاروبار پر کافی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔پھر بھی جمعہ کے دن کو مکمل ورکنگ ڈے بنانے کی بجائے ہاف ورکنگ ڈے رکھا گیا تاکہ مذہب اور کاروبار دونوں متاثر نہ ہوں۔
یہ تو پاکستان کی تاریخ سے پس منظر تھا ۔اب اسلامی تاریخ کو بھی نکال کر دیکھیں تو کہیں بھی ایسی مثال نہیں ملے گی جس میں جمعہ کی فضیلت سے زندگی کا پہیہ متاثر ہوا ہو یا کسی حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ جمعہ کی فضیلت چھٹی کے ساتھ مشروط ہے اگر فضیلت کا معیار چھٹی سے ہے تاکہ لوگ عبادت کر سکیں تو پھرسب سے افضل مہینہ رمضان ہے تو کیا پورے رمضان میں عالم اسلام کو اس اعتبار سے اپنے شہریوں کو چھٹی دے دینی چاہیے؟
پیر صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ نواز شریف تمہارا اقتدار کامیاب نہیں ہوگا۔پیر صاحب آج اگر حیات ہوتے تو میں ان سے ضرور پوچھتا کہ وہ اقتدار کی کامیابی سے کیا مراد لیتے ہیں۔کیا میاں صاحب کا پانچ سال پورے کرجانا اقتدار کی کامیابی تھی؟ یا پھر عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرنا اقتدار کی کامیابی تھی؟ اور اگر اب بھی نون لیگ کی حکومت میاں صاحب کی نااہلی کے بعد جمعہ کی چھٹی بحال کر دے تو کیا نواز شریف واپس وزیراعظم ہاوس میں آجائیں گے یا اس طرح سے نون لیگ کا اقتدار کامیاب ہوجائے گا؟
ایک تو میاں صاحب کو جمعہ کی چھٹی بحال نہ کرنا لے ڈوبا دوسری وجہ ہمیں میاں صاحب کی نااہلی کے اگلے روز ایک مشہور روزنامہ نے اپنی شہ سرخی میں بتائی کہ ممتاز قادری کی پھانسی میاں صاحب کو ان کے انجام تک لے آئی اور اکثریت جو مذہبی جنون میں مبتلا ہیں اس واقعے کو فیس بک پر ممتاز قادری کی پھانسی سے جوڑ رہے ہیں۔کسی کو 29 فروری یاد نہیں رہا تو 28 فروری کی 28 جولائی سے مماثلت ظاہر کرکے معجزاتی انجام سمجھایا جا رہا ہے.
سارے اپنا اپنا تیل اور چورن بیچ رہے ہیں۔بحیثیت قوم ہماری یاداشت انتہائی کمزور ہے۔ذہن سے وقت کی دھول ہٹائی جائےتو معلوم ہوگا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نتیجے میں فوج قتل کے مجرموں کی سزا پھانسی کوتیزی سے عمل کرانے میں مصروف تھی اور فوج کے سبب ہی ممتاز قادری کی پھانسی پر ملک میں کسی قسم کا شدید ردعمل مذہبی جماعتوں کی طرف سے نہیں دکھایا گیا۔
بات جمعہ کی چھٹی اور ممتاز قادری کی پھانسی تک بھی ختم نہیں ہوتی کچھ احمق عافیہ صدیقی کی قید اور مظالم کو بھی حکمرانوں کے اقتدار کے خاتمے سے جوڑ رہے ہیں مشرف ، زرداری اور نواز عافیہ کو واپس نہ لا سکے اس لئے چل بسے۔پیر صاحب کی 2013 کی اسی پوسٹ کی ہوئی ویڈیو پر ان کے ایک مرید نے اگست 2014 میں کمنٹ کیا ہوا تھا : لگتا ہے میرے مرشد پاک کی پیشن گوئی درست ثابت ہو رہی ہے۔
ہم لوگ آخر کب تک تاریخ اور حقائق کو مسخ کریں گے؟ ہم کب تک تاریخ میں ہونے والے واقعات کی غلط تشریحات پیش کریں گے؟ ہمارے مذہبی راہنما کب اپنے اپنے مفادات سے نکل کر ہمیں سچ بتائیں گے؟
فیس بک پر تبصرے