نواز شریف کی چیف جسٹس پر تنقید

1,010

8 جون کا سورج بھی شدت کی عکاسی کررہا تھا۔ نواز شریف احتساب عدالت پیش ہوئے تو سابق فوجی آمر پرویز مشرف کا ذکر ان کی زبان پر تھا۔ ایک دن قبل سپریم کورٹ نے سنگین غداری کے باوجود مشرف کو الیکشن 2018 کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی اجازت دی۔ اگرچہ یہ مشروط اجازت ہے لیکن اتنے سنگین جرم کے ملزم کے ساتھ  دوستانہ برتاؤ نے جیسے نواز شریف کو چپ کا روزہ توڑنے پر مجبور کردیا ہو۔ نواز شریف نے نظام انصاف پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مشرف کے جرائم کی فہرست گنواتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ آئین کی کونسی شق مشروط انتخابات کی اجازت دیتی ہے؟ پھر متلاشی نگاہوں سے یہ چیلنج بھی دے ڈالا کہ اگر کوئی ایسی آئینی شق ہے تو انہیں دکھائی جائے۔ کہتے ہیں کوئی قتل کردے، آئین توڑ دے یا تباہی پھیر دیے، اگر چیف جسٹس چاہیں  گے تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مشرف کے علاوہ ان کا اشارہ برسرپیکار کچھ ایسے لوگوں کی طرف بھی تھا جنھیں وہ خلائی مخلوق سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی گہما گہمی کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں منتخب حکومت کا تختہ کس نے الٹا؟ سینیٹ کے انتخابات میں ان کی پارٹی کے امیدواروں کو ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے ایک غیر معروف شخص کو چیئرمین  سینٹ تک کس نے پہنچایا؟

نواز شریف چیف جسٹس کو کوئی رعایت دینے کے لیے  تیار نظر نہیں آتے اور ان کا یہی معاملہ پرویز مشرف کے ساتھ بھی ہے، جس کی وجہ سے نواز شریف کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ اس کا اظہار انہوں نے عدالت کے سامنے اپنے پیش کردہ بیانیے میں بھی کھل کر کیا ہے۔ چیف جسٹس سے متعلق نواز شریف کو ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ انتخابات سے پہلے ان کی پارٹی کے ہاتھ پاؤں باندھے جارہے ہیں۔ نیب یک طرفہ احتساب کے ٹریل پر چلا نکلا ہے اور  قبل از انتخابات ہونے والی اس دھاندلی کے خلاف کوئی نوٹس نہیں لے رہا۔ کہتے ہیں بات بات پرازخود نوٹس لینے والے نون لیگ سے زبردستی لوگوں کو ہٹا کر دوسری جماعتوں میں شامل کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیوں نہیں لیتے؟  براہ راست چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ  ایک طرف  مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ  اور دوسری طرف  اسے الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت دے دی گئی۔  مشرف جیسے  شخص کو کیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے ؟ کدھر گیا آئین و قانون ، آرٹیکل 6 اور کدھر گئے سارے مقدمے ؟  نواز شریف نے کہا کوئی قتل کر دے ، آئین   توڑ دے، تباہی پھرد ے ،اگر چیف  جسٹس چاہیں گے تو اسے کچھ نہں  کہا جائے گا جبکہ دوسری طرف مجھے تاحیات نا اہل کر دیا گیا اور اب بیگم کی عیادت کے لیے  تین دن کا استثنیٰ تک   نہیں مل رہا ۔ کہتے ہیں ہماری عقل و فراست میں یہ بات نہیں آ رہی ہے اور سب لوگ حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ چیف جسٹس ایسا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟ نواز شریف نے ایک گھنٹے بعد عدالتی کارروائی سے استثنیٰ لیا اور واپس روانہ ہوگئے۔

آج مسلسل تیسرے دن مریم نواز اپنے والد کے ساتھ عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ اسی دن شام کو نواز شریف نے منڈی بہاؤالدین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بھی یہی سوالات دہرائے کہ ملک کے چیف جسٹس کس طرح پرویز مشرف کو رعایت دے رہے ہیں۔ مریم نواز نے بھی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے والد کے بیانیے کے عین مطابق سابق فوجی آمر کے معاملے میں انصاف کے دہرے معیار پر بات کی۔ جلسے کی ایک خاص بات نواز شریف کی طرف سے ظاہر کیا گیا یہ خدشہ تھا کہ کچھ لوگ پھر اٹک قلعے کی طرح انہیں پابند سلاسل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جلسے کے شرکاء سے عہد لیا کہ وہ جہاں سے بھی آواز دیں گے اس پر عمل کیا جائےگا۔ جیو ٹی وی کے علاوہ اس جلسے کو میڈیا پر زیادہ کوریج نہیں  مل سکی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...