ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالیں: حتمی حل تلاش کرنے کی ضرورت
راولپنڈی سنٹرل ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) نے کل بروز جمعہ سے ہڑتال کا اعلان کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے شعبہ بیرونی مریضاں (OPD)کے داخلی دروازے کو تالا لگا ہوا ہے۔ ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعمت اللہ کے مطابق متبادل کے طور پر جن ڈاکٹرز کو مریضوں کے علاج کے لیے لایا جاتا ہے YDA والے آکر اسے زبردستی اٹھادیتے ہیں۔ ہڑتال آج بھی جاری رہی۔ ڈاکٹرز کے مطالبات میں سابق سپرنٹنڈنٹ طارق نیازی کی بحالی، تنخواہوں میں اضافہ اور سکیورٹی میں بہتری شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہڑتال سوموار کوبھی جاری رہے گی۔ انہوں نے ہولی فیملی میں بھی احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
پرامن اور بے ضرر احتجاج ہر شہری کا حق ہوتا ہے اور یہ حق ڈاکٹر طبقے کو بھی حاصل ہے۔ لیکن ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں پچھلے چند سالوں سے جاری ڈاکٹرز کی مسلسل ہڑتالوں کی وجہ سے یہ قضیہ جو شکل اختیار کرتا جا رہا ہے وہ افسوسناک ہے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی ہڑتالوں کے دوران پیدا ہونے مسائل میں حکومت ڈاکٹرز کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے اور ڈاکٹرز حکومت پر الزام دھرتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان زندگی موت کی کشمکش میں پڑے مریض بے بسی اور لاچاری کی تصویر ہوتے ہیں۔اس مسئلہ کو تین حوالوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے:
ڈاکٹرز اور مریضوں کے مابین ایک خاص سماجی معاہدہ ہوتا ہے جس میں انسانی جان کو پہلی ترجیح دیے جانے کی بات ہوتی ہے اوراسی سماجی معاہدہ کی وجہ سے معاشرے میں معالج کو زیادہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ ڈگری لیتے وقت یہ حلف اٹھاتے ہیں کہ مریض کو ہر شے پر مقدم رکھیں گے۔ لیکن آئے روز کی ہڑتالوں کی وجہ سے مریض جن تکالیف سے گزرتے ہیں یا کئی زندگی سے ہار جاتے ہیں، اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اس سماجی معاہدے کی حیثیت کیا رہ گئی ہے اور اسے کیسے بحال کیا جاسکتا ہے؟
دوسری چیز یہ ہے کہ میڈیکل کالجز جو ملک میں طب کی تعلیم دے رہے ہیں کیا وہ اپنے طلبہ کو صرف علاج کا ہنر اور پیسے کمانے کا طریقہ سکھاتے ہیں؟ ان اداروں کے نظم اور طبی اخلاقیات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آخر کیاوجہ ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کسی کی جان کی پروا کیے بغیر ہسپتال کے نظام کو معطل کردیتے ہیں۔
تیسرا اور اہم کردار حکومت کا ہے۔ ڈاکٹراور مریض، دونوں کے مسائل حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ حقیقی اتھارٹی بھی اسی کے پاس ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ ہڑتالوں کے سلسلے کو روکنے کے لیے کوئی حتمی حل تلاش کرے اورمیڈیکل کالجز و ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر حقِ احتجاج کاکوئی ایسا قانون بھی وضع کیا جائے کہ جس میں کسی کو ضرر لاحق نہ ہو تاکہ مریضوں کو اذیت اور موت سے بچایا جاسکے۔
فیس بک پر تبصرے