کشمیر کا مسئلہ اور او آئی سی کی سردمہری، عرب صحافی کیا کہتے ہیں؟
گزشتہ جمعے کو سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کشمیر پر عرب دنیا کے ردعمل پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ مسلم اُمہ کا تصور خوش فہمی ہے۔ پاکستان کو او آئی سی کی رکنیت چھوڑ دینی چاہیے۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت کے اختتام کے بعد بھارتی وزیراعظم کے اعزاز میں بعض خلیجی ممالک کے اقدامات نے پاکستان کے حکومتی وعوامی حلقے میں یکساں مایوسی و ہلچل پیدا کی ہے۔ جس طرح پاکستان میں غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اسی طرح باقی مسلم دنیا میں بھی خلیجی ریاستوں کے ان سربراہان پر تنقید کی گئی۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم کے حوالے سے اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کا اظہار بعض عرب صحافی اور عوام کر رہے ہیں۔
مثال کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ او آئی سی کا کشمیر کے حوالے سے بھارت کے خلاف موقف رکھنا پاکستان کے مطالبے سے زیادہ تنظیم کی اپنی آزادانہ پالیسی ہے۔ تنظیم میں بھارتی حکومت کو تو رکنیت حاصل نہیں ہے لیکن اس میں بھارت کے مسلمانوں کو علامتی رکنیت دی گئی ہے اس لیے کہ اسلامی تعاون تنظیم مسلمانوں کے حقوق و مسائل کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ لہذا ایسے تمام ممالک جہاں زیادہ تعداد میں مسلمان بستے ہیں او آئی سی ان سے حکومتی سطح پر ربط رکھتی ہے۔ اِسی بِنا پر رُوس اور تھائی لینڈ بھی بطور مبصر ملک کے تنظیم میں شامل ہیں۔
اگرچہ اس تنظیم میں مسلم ملک رکن ہوتے ہیں لیکن 1969 سے او آئی سی مسلم شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے بھارت کو رکنیت دینے کے لیے رضامند تھی تاکہ وہ ان کے حقوق ومسائل کے لیے بات کرسکے۔ لیکن پاکستان کے مسلسل اصرار کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ اسلامی تعاون تنظیم میں یہ احساس بھی موجود ہے کہ پاکستان صرف کشمیریوں کی بات کیوں کرتا ہے۔ بھارت میں موجود 200 ملین مسلمانوں کی مشکلات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے خیال میں اگر پاکستان کشمیر کے ساتھ سب کے حقوق کی بات کرتا تو عالمی سطح پر اس کا موقف زیادہ شفاف، غیر متنازع اور قابل شنوائی ہوتا۔
او آئی سی میں اب 57 ممالک کو رکنیت حاصل ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی تنظیم ہے جس کا اتنے ممالک حصہ ہیں۔ صحافیوں کے مطابق اگر بھارت اس کا رکن ہوتا تو وہاں کے مسلمانوں کے مسائل کے حوالے سے بات کرنا اور دباؤ ڈالنا مفید ثابت ہوتا۔ بھارت اس تنظیم کے وفد کی اپنے ملک دورے کی درخواست کو مسترد کردیتا ہے۔ رکن ہونے کی صورت میں شاید کچھ بہتری ممکن ہوتی۔
اب یہ امکان موجود ہے کہ بھارتی دیرینہ خواہش کی بنیاد پر رُوس اور تھائی لینڈ کی طرح اسے بھی تنظیم میں مبصر ملک کے طور پر شامل کرلیا جائے گا۔ یقیناََ بھارت اپنے اقتصادی مفادات اور خلیج میں ملازمت کرنے والے اپنے شہریوں کے مستقبل کے لیے یہ چاہتا ہے۔ لیکن اس سے بھارتی مسلمانوں کے لیے بات کرنے کی راہ بھی کھل سکتی ہے، اگر اسے استعمال کیا جائے۔ عرب صحافیوں کے مطابق اگر پاکستان اپنی حیثیت کھودینے سے قبل اس کا راستہ بند نہ کرتا تو زیادہ فائدہ اسی کو ہوتا لیکن اب بھی اسے مخالفت کرتے ہوئے تنظیم چھوڑنے کی بجائے اس میں اپنی فعالیت اور اہمیت کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
فیس بک پر تبصرے