working
   
 
   
Untitled Document
موجودہ شمارہ

Untitled Document


Untitled Document
 
Bookmark and Share
10 April 2015
تاریخ اشاعت

 عدم تحفظ کی بنیاد پر بنے والی آبادیاں

قومی لائحہ عمل برائے انسداد دہشت گردی

میڈیا اور دہشت گردی

ڈاکٹرفرحان زاہد

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں اب دو طاقتی نظام رائج نہیں رہا بلکہ یک طاقتی نظام ہے جس کی قیادت امریکہ کے پاس ہے اور اس کی یہ طاقت اس کے تباہ کن ہتھیاروں کی وجہ سے نہیں بلکہ پراپیگنڈاکے ذرائع کی وجہ سے ہے ۔ جو سب سے موئثر ہتھیار کے روپ میں سامنے آیا ہے ۔عسکریت پسند بھی یہ ہتھیار بھر پور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں ۔معروف صحافی اعزاز سید ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ دہشت گردوں کے نظریات کے پرچار پر نیشنل ایکشن پلان نے قدغن لگا دی ہے مگر اس کے باوجود ان کا پراپیگنڈا جاری ہے ۔اعزاز سید گزشتہ کئی سالوں سے قومی میڈیا میں دہشت گردی کو رپورٹ کر رہے ہیں ۔ان کی ایک کتاب The Secrets of Pakistan's War on Al-Qaeda کے نام سے حال میں شائع ہوئی ہے۔(مدیر)

میڈیا عسکریت پسندوں کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے ۔عسکریت پسند چاہتے ہیں کہ ان کے نظریات کی ترویج ہو تاکہ انھیں اپنی تنظیموں کے لئے نیا خون اورفنڈز میسر آئیں جس کے ذریعے وہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا سکیں ۔میڈیا عسکریت پسندوں کونہ صرف باہم روشناس کرا رہا ہے بلکہ پالیسی سازوں تک بھی رسائی دے رہا ہے ۔سرد جنگ کے دوران عسکریت پسند اخبارات ا ور ریڈیو کے ذریعے اپنا پیغام پھیلانے کے قابل ہو چکے تھے مگر وقت کے ساتھ انھوں نے دیگر ذرائع پر بھی دسترس حاصل کر لی۔ جن میں ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ شامل ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی وجہ سے عسکریت پسندوں کواپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان میں بہت سے گروہ زیر زمین چلے گئے تھے مگر اس کے باوجود انھوں نے خود کو اخبارات و جرائد ،ویب سائٹس، آڈیو کیسٹس اور سی ڈیز کے ذریعے زندہ رکھا ۔جس سے ریاست کی ان کوششوں کو شدید دھچکا لگا جو وہ ان گروہوں کے خاتمے کے لئے کر رہی تھی ۔اس ماحول میں جب دسمبر 2014 ء میں نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ہوا تو اس کا ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے عسکریت پسندوں کی جو ترویج ہو رہی ہے اس پر پابندی لگائی جائے ۔حکومت کا دعوی ٰ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی پوری روح کے ساتھ عمل در آمد کیا جا رہا ہے ۔لیکن چھ ماہ کے بعد ایسالگتا ہے کہ حکومت کو اپنا تھوکا ہوا چاٹنا پڑ رہا ہے۔ وہ بلاتخصیص کارروائیاں نہیں کر سکی اورپہلے والی پالیسی جس کے تحت کچھ گروہوں کو کھلا چھوڑ کر کچھ کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ۔افغانستان اور کشمیر میں پاکستان کے ہمنوا عسکریت پسندباقاعدگی کے ساتھ اپنی پبلیکشنز اور دستاویزی فلمیں جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں تشدد کو ہوا دی جا رہی ہے ۔حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی ابھی اسی حد تک ہے کہ وہ ان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔پاکستان مخالف گروہ بھی اپنا منتہاو مقصود آن لائن بیان کر رہے ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر یہ کام چوری چھپے کر رہے ہیں۔

قانونی طریقہ کار

اگرچہ شر انگیز تقریروں کے خلاف قانون موجود ہے مگر ایسا کوئی قانون میڈیا میں عسکریت پسندوں کی تشہیر سے متعلق نہیں ہے۔ 2015ء کے وسط تک چار میں سے تین صوبوں نے عسکریت پسندوں کے نظریات کی تشہیر روکنے کے لئے کوئی قانون متعارف نہیں کرایا تھا ۔خیبر پی کے ،بلوچستان اور سندھ عسکریت پسندی سے سخت متاثر ہوئے ہیں۔ کاغذی کارروائی کی حد تک ہی سہی پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جس نے اس جانب کوئی پیش رفت کی ہے ۔21جنوری کو پنجاب اسمبلی نے پنجاب پبلک آرڈر 2015ء کا ترمیمی ضابطہ جاری کیا جس کے تحت کسی بھی صورت میں عسکریت پسندوں کی میڈیا کے ذریعے ترویج و تشہیر پر پابندی لگا دی گئی ۔اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید اور 25000سے ایک لاکھ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے ۔اس ایکٹ میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص تحریر و تقریر کے ذریعے دہشت گردی یا دہشت گردوں کی حمایت نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان سے ہمدردی ظاہر کر سکتا ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے وہ میڈیا کا سہارا لے سکتا ہے ۔وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کسی حملے کی حمایت بھی نہیں کر سکتا ۔جب سے یہ قانون لاگو کیا گیا ہے پنجاب حکومت نے شرانگیز مواد کے

خلاف ایک مہم شروع کر رکھی ہے ۔وزارت داخلہ کے مطابق13جولائی 2015ء تک حکومت نے شر انگیز تقریریں کرنے پر 1776کیس رجسٹرڈ کئے ،1799لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 236کو سزا دی گئی ۔مزید برآں صرف 71دکانوں کو سیل کر کے وہاں سے شر انگیز مواد1512کی تعداد میں بر آمد کیا گیا ۔تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ شر انگیز مواد ایک کتاب کی کئی کاپیوں کی صورت میں تھا یا الگ الگ کتابوں کی صورت میں تھا ۔

میڈیا پر شر انگیزی جاری ہے

ابھی تک کئی گروہ نیشنل ایکشن پلان اور پنجاب حکومت کے قانون کے باوجود اپنا کا م جاری رکھے ہوئے ہیں۔جماعت الدعواۃ کو ہی لے لیں جو کہ انڈیا کے خلاف متحرک ایک جماعت کے فلاحی شعبے کانام ہے ۔جماعت الدعواۃ کے اردو اور انگریزی زبانوں کے سات میگزین شائع ہوتے ہیں جن میں ’’جرار ‘‘ ’’طیبات‘‘اور ’’ضربِ طیبہ‘‘ بھی شامل ہیں ۔یہ بات غیر معمولی ہے کہ حکومت اس کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی حالانکہ یہ گروپ وزارتِ داخلہ کی جانب سے زیرِ مشاہدہ بھی ہے ۔کالعدم جیشِ محمد کا کیس بھی ایسا ہی ہے جو ’’الرحمت ٹرست ‘‘ کے نام سے مصروفِ عمل ہے ۔یہ ٹرسٹ باقاعدگی سے بہاولپور اور راولپنڈی سے آٹھ صفحات پر مشتمل ہفت روزہ ’’القلم‘‘شائع کرتا ہے ۔القلم کا ایک حالیہ شمارہ آن لائن بھی دستیاب ہے جس میں عسکریت پسندوں کی انڈیا میں سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔’’خدام القرآن ‘‘ بھی کالعدم جماعت ہے جو اب تحریکِ غلبہ اسلام کے نام سے کام کر رہی ہے جو ہفت روزہ ’’غلبہ‘‘ باقاعدگی سے شائع کرتی ہے ۔

بے ضابطگیاں

جب بات صفِ اوّل کے میڈیا کی ہوتی ہے جس میں ٹی وی اور اخبارات شامل ہیں ہے تو نیشنل ایکشن پلان کے اصول کسی حد تک کار گر نظر آتے ہیں۔جس کو کچھ لوگ مجموعی طور پر صورتحال کی بہتری گردانتے ہیں مگر اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا عسکریت پسندوں کے رویئے سے خود تنگ ہے اور انھیں اچھا نہیں سمجھتا۔ اس قانون پر مکمل پابندی نہ کروا سکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا کی حرکیات تبدیل

ہو چکی ہیں ۔میڈیا کے دفاتر دو بنیادی ستونوں پر کھڑے ہیں ایک خبروں کا شعبہ ہے جو کہ روز بروز کی خبریں دیتا ہے اور دوسرا شعبہ تجزیوں کا ہے جو کہ آراء ،اداریہ یا ٹالک شوز پر مشتمل ہے ۔جب بات خبروں کی ہوتی ہے تو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے مجموعی طور پر عسکریت پسندوں کے بیانئے کو نظر انداز کر کے ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ۔اور اب ان کی کوریج صرف اس حد تک رہ گئی ہے کہ کس حملے کی ذمہ داری ان کے کس گروہ نے قبول کی ہے ۔ایسا صرف عوام کو عسکریت پسندوں کا چہرہ دکھانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صفِ اوّل کا میڈیا عسکریت پسندوں کا مؤقف سامنے لانے سے اجتناب کرتا ہے ۔جب کہ اس کے مقابلے پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکا وہ ستون جو آراء پر مشتمل ہے وہ عسکریت پسندوں کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے ۔بعض اوقات پرنٹ میڈیا کے کچھ کالم نگار اور پرائم ٹام میں چلنے والے ٹالک شو ز کے کچھ تجزیہ کار ایک ایسا بیانیہ دیتے نظر آتے ہیں جس سے عسکریت پسندوں کا فائدہ ہوتاہے۔ میڈیا یہ پلیٹ فار م ان لاگوں کو انفرادی طور پر فراہم کر رہا ہے جو عوام میں عسکریت پسندی کی حما یت کرتے ہیں ۔پرائم تائم کے ٹالک شوز میں آنے والے مہمانوں کے ناموں پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ کئی مہمان عالمی امور میں تنگ نظری کا شکار ہیں بالکل ویسے ہی جیسے عسکریت پسندہیں۔یہ لوگ یا تو سر عام یا پھر فرضی ناموں سے اردو میڈیا میں اپنے خام نظریات کا پر چار کرتے نظر آتے ہیں ۔یہی لوگ جہادی اخبارات مثلاً’’ضرار‘‘اور ’’القلم‘‘ وغیر میں بھی فرضی ناموں سے لکھتے ہیں ۔یہ گٹھ جوڑ کامیابی سے چل رہا ہے۔ سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ کئی ٹی وی اینکرز ایسے مہمانوں کو اس لئے مدعو کرتے ہیں تاکہ اس کے بدلے میں انھیں امان ملی رہے وہ ان انتہا پسندوں کے نشانے پر نہ آجائیں۔

وفاقی سیکرٹری اطلاعات اور پیمرا کے ممبر اعظم خان نے کہا کہ ایسانہیں ہے کہ میڈیا کویہ باور نہ کرایا گیا ہو کہ وہ عسکریت پسندوں کے پیغام کی تبلیغ نہ کرے ۔پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق کالعدم تنظیموں کی ایک فہرست میڈیا کو فراہم کی گئی ہے ۔پیمراکا کہنا ہے کہ وہ پرائیویٹ میڈیا کو تقریباً دس بار ایسی ہدایات دے چکا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار نہ کیا جائے ۔ان کا مؤقف سامنے لانے سے گریز کیا جائے ۔اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی نے کیا قدم اٹھایا ؟ ابھی تک کسی چینل پر کوئی جرمانہ عائدنہیں کیا گیا کہ

اس نے عسکریت پسندوں سے ہمدردیاں رکھنے والوں کو اپنے پروگرام میں بلایا ہو ۔پیمرا کے سابق چیئرمین پرویز راٹھور کا کہنا ہے کہ پیمرا قانون کے مطابق چلتا ہے مگر عملی طور پر یہ مفلوج ہو چکا ہے ۔میڈیا ہاؤسز بہت طاقتور ہیں ۔ان کی رسائی معاشرے کے ہر طبقے حتٰی کہ عدلیہ تک بھی ہے وہ ہمارے فیصلوں کو عدالتوں میں لے جاتے ہیں جو انھیں حکمِ امتناعی جاری کردیتی ہیں جس سے ہمارے احکامات کھوہ کھاتے چلے جاتے ہیں ۔پیمرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پیمرا ،خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر کچھ نہیں کرتا جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ہم ان کو نوٹس بھیجتے ہیں کہ وہ اس کی وضاحت کریں کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا ہے ۔

وزارت اطلاعات یا پمرا ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے فوری طور پر ایک سروے کرائیں جس میں میڈیا کے ایسے لوگوں کی نشاندہی کریں جو کہ عسکریت پسندوں اور ان کے نظریات سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ان کی ترویج کر رہے ہیں ۔ایسے لوگوں کے لئے تربیتی ورکشاپس اور سیمینار منعقد کئے جائیں اور انھیں بتایا جائے کہ وہ کتنے بڑے خطرے سے کھیل رہے ہیں ۔اسی طرح جو پیمرا کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتا ہے اس چینل کو جرمانہ بھی کیا جائے ۔یہ ساری صورتحال کچھ دوسرے مسائل کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے جن کے لئے قانون کی عمل داری کے علاوہ کچھ دوسرے طریقے بھی آزمائے جا سکتے ہیں ۔

***

ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگا

اتفاقًا باغبان بھی وہاں آپہنچا اور چور سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوبے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟

چور مسکرایا اور بولا

ارے بے خبر یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اسکا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ تو پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا

باغبان نے چور سے کہا

جناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں۔۔۔۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ھے جو کرتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا ہی کرتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بندے کا کچھ بھی اختیار نہیں۔۔۔۔۔۔ قبلہ ذرا نیچے تشریف لائیے۔۔۔۔۔۔

چور اپنی تعریف سن کر پھولا نہ سمایا اور جھٹ سے نیچے اتر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب وہ نیچے آیا تو باغبان نے اسکو پکڑ لیا اور رسی کے ساتھ درخت سے باندھ دیا۔ پھر خوب مرمت کی ، آخر میں جب ڈنڈا اٹھایا تو چور چلا اٹھا ، کے ظالم کچھ تو رحم کرو ، میرا اتنا جرم نہیں جتنا تو نے مجھے مار لیا ہے۔ باغبان نے ہنس کر اس سے کہا کہ جناب ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے ، اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، اگر پھل کھانے والا اللہ کا بندہ تھا تو مارنے والا بھی تو اللہ کا بندہ ہے اور اللہ کے حکم سے ہی مار رہا ہے کیونکہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا

چور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا مجھے چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل مسئلہ میری سمجھ میں آگیا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ بندے کا بھی کچھ اختیار ھے

باغبان نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی اختیار کی وجہ سے اچھے یا برے کام کا ذمہ داربھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(حکایت رومی )